یورپی یونین کی پیش قدمی پر آسٹریلیا، جاپان اور برطانیہ سمیت 60 ممالک نے سمندری راستوں کو کھلا رکھنے پر زور دیا؛ اضافی محصولات اور امتیازی پابندیوں سے عالمی تجارت، تیل و گیس کی فراہمی اور اشیا کی قیمتیں متاثر ہونے کا خدشہ
نئی دہلی: آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرنے اور بین الاقوامی سمندری راستوں پر پابندیوں کے خلاف 60 ممالک متحد ہو گئے ہیں۔ یورپی یونین کی پیش قدمی پر سامنے آنے والے مشترکہ اعلان میں ان ممالک نے بین الاقوامی قانون کے تحت سمندری راستوں سے محفوظ، آزاد اور بلا رکاوٹ آمد و رفت برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔ آسٹریلیا، جاپان اور برطانیہ سمیت متعدد ممالک نے بھی اس موقف کی حمایت کی ہے۔
12 اکتوبر کو سامنے آنے والے اس اعلان میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی سمندری راستوں سے قانونی طور پر گزرنے والے جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ پیدا کرنے والے اقدامات ناقابلِ قبول ہیں۔ ممالک نے غیر قانونی فیس، امتیازی پابندیوں اور جہازوں کی آمد و رفت کے لیے پیشگی اجازت جیسی شرائط پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے اس مشترکہ کوشش کا اعلان کرتے ہوئے بین الاقوامی قانون کے مطابق سمندری راستوں کو کھلا رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس پہل کا مقصد کسی بھی ملک کی یک طرفہ کارروائی کے نتیجے میں عالمی بحری تجارت اور جہازوں کی نقل و حرکت کو متاثر ہونے سے روکنا ہے۔
آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟
آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں سے ایک ہے۔ خلیجی ممالک سے دنیا کے مختلف حصوں تک خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) پہنچانے میں اس آبی گزرگاہ کا بنیادی کردار ہے۔ جنگ سے قبل عالمی سطح پر استعمال ہونے والے تیل اور ایل این جی کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی تھی۔
اسی اہمیت کے باعث آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔ ایران کی جانب سے اس راستے سے گزرنے والے جہازوں پر جہاز رانی، سلامتی اور دیگر خدمات کے نام پر فیس وصول کرنے کی تجویز نے بھی بین الاقوامی سطح پر تشویش پیدا کی ہے۔
عالمی تجارت اور عام لوگوں پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
اگر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر اضافی محصولات عائد کیے جاتے ہیں یا ان کی آمد و رفت محدود ہوتی ہے تو سامان کی ترسیل کی لاگت بڑھ سکتی ہے۔ اس کا اثر خام تیل، قدرتی گیس اور دیگر اشیا کی عالمی قیمتوں پر پڑنے کے ساتھ ان ممالک کی معیشتوں پر بھی پڑ سکتا ہے جو توانائی کی ضروریات کے لیے خلیجی خطے پر انحصار کرتے ہیں۔
اضافی اخراجات کا بوجھ بالآخر صنعتوں، کاروباروں اور صارفین تک منتقل ہو سکتا ہے، جس سے ایندھن، نقل و حمل اور روزمرہ استعمال کی اشیا مہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی لیے سمندری راستوں کی آزادی اور بین الاقوامی قوانین کی پابندی کو عالمی تجارت کے استحکام کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔
60 ممالک کے مشترکہ موقف کے بعد اب توجہ اس بات پر ہے کہ بین الاقوامی برادری آبنائے ہرمز میں محفوظ اور بلا رکاوٹ بحری آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے کیا عملی اقدامات کرتی ہے۔ تاہم، اس مشترکہ اعلان کے اثرات کا انحصار متعلقہ ممالک کے آئندہ اقدامات اور زمینی صورت حال پر ہوگا۔