سعودی عرب کے پاس برآمد کرنے کے لیے صرف 5 سے 7 دن کا تیل باقی رہ گیا ہے۔ ایسے میں ڈرون حملوں کے بعد ملک کی اہم ’ایسٹ-ویسٹ‘ تیل پائپ لائن کی بندش نے عالمی تیل سپلائی پر تشویش بڑھا دی ہے۔ اگر پائپ لائن کو جلد بحال نہ کیا گیا تو عالمی مارکیٹ میں تیل کی سپلائی میں تقریباً 4 فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں پہلے سے جاری تیل بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔
نیوز ایجنسی ’اے این آئی‘ کے مطابق سعودی عرب نے ڈرون حملوں کے بعد جمعہ، 11 ستمبر کو اپنی اہم ’ایسٹ-ویسٹ‘ تیل پائپ لائن کو احتیاطاً بند کر دیا۔ یہ پائپ لائن سعودی عرب کے مشرقی علاقوں سے تیل کو بحیرہ احمر کے ساحل تک پہنچانے کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے اور عالمی سطح پر سعودی تیل کی برآمدات کے لیے اس کا اہم کردار ہے۔
پائپ لائن کی بندش کے باعث سعودی عرب کے لیے تیل کی ترسیل اور برآمدات متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اگر صورتحال طویل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی دستیابی کم ہو سکتی ہے، جس کا براہِ راست اثر خام تیل کی قیمتوں اور ایندھن کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔
سعودی حکام نے تاحال پائپ لائن کو پہنچنے والے نقصان کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی ہیں اور نہ ہی یہ واضح کیا ہے کہ اسے دوبارہ کب تک فعال کیا جا سکے گا۔ یہی غیر یقینی صورتحال عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔
اگر پائپ لائن کی بحالی میں تاخیر ہوتی ہے تو عالمی تیل سپلائی میں کمی کے باعث قیمتوں میں تیزی آنے کا امکان ہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورت حال سے پہلے سے دباؤ کا شکار عالمی توانائی بازار مزید متاثر ہو سکتا ہے اور کئی ممالک میں پٹرول و ڈیزل سمیت دیگر ایندھن کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔