عدالت نے کرشنا نگر عدالت کے دائرہ اختیار سے مقدمہ ہٹا کر بدھان نگر کی ایم پی-ایم ایل اے عدالت منتقل کر دیا
کلکتہ: کلکتہ ہائی کورٹ نے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی رکن پارلیمنٹ اور کرشنا نگر سے رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا کو بڑی راحت دیتے ہوئے ان کے خلاف ندیا ضلع کی کرشنا نگر عدالت سے جاری گرفتاری وارنٹ منسوخ کر دیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں کرشنا نگر ضلعی عدالت کے دیگر متعلقہ احکامات بھی منسوخ کر دیے۔
جسٹس دیبانگشو بساک کی سربراہی والی ڈویژن بنچ نے مقدمے کو کرشنا نگر ضلعی عدالت کے دائرہ اختیار سے نکال کر شمالی 24 پرگنہ ضلع کے بدھان نگر میں واقع ایم پی-ایم ایل اے عدالت کو منتقل کرنے کا حکم دیا۔ مہوا موئترا نے اپنے خلاف جاری گرفتاری وارنٹ کو چیلنج کرتے ہوئے کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے وارنٹ پر عمل درآمد پر عبوری روک بھی لگا دی تھی۔
یہ معاملہ کرشنا نگر کے ایک رہائشی کی جانب سے مہوا موئترا کے خلاف درج کرائی گئی شکایت سے متعلق ہے۔ ان پر ہندوستانی فوج اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے بارے میں مبینہ طور پر متنازع اور قابل اعتراض تبصرے کرنے کے علاوہ تلسی کی لکڑی کی مالا، برقعہ اور حجاب پہننے والی خواتین سے متعلق مبینہ طور پر قابل اعتراض بیانات دینے کے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے۔
خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس کے مطابق، شکایت میں مہوا موئترا پر خواتین کے وقار کو مجروح کرنے، مختلف مذہبی گروہوں کے درمیان دشمنی یا تنازع پیدا کرنے، مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور دھمکانے جیسے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
رپورٹس کے مطابق، کرشنا نگر عدالت نے اس معاملے میں مہوا موئترا کو متعدد مرتبہ سمن جاری کرتے ہوئے پیش ہونے کی ہدایت دی تھی۔ ان کی عدالت میں عدم حاضری کے بعد ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا گیا تھا، جسے انہوں نے بعد میں کلکتہ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔
ہائی کورٹ کے تازہ فیصلے سے مہوا موئترا کو اس مقدمے میں فوری طور پر بڑی قانونی راحت ملی ہے، جبکہ مقدمے کی مزید کارروائی اب بدھان نگر کی ایم پی-ایم ایل اے عدالت میں ہوگی۔