کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک کو 16 اور 17 اکتوبر کے لیے بند کرنے کے فیصلے پر سی جے پی کا اعتراض، ابھیجیت دیپکے نے گرفتاری کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ترنگا لہرانے سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔
نئی دہلی: کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے جمعہ، 16 اکتوبر کو دہلی کے کناٹ پلیس واقع سینٹرل پارک میں ’لہرا دو ترنگا مارچ‘ نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے الزام لگایا ہے کہ قومی پرچم لہرانے کی اپیل کے بعد پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیاں ان کی نگرانی کر رہی ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ دہلی پولیس انہیں حراست میں لے سکتی ہے، تاہم ساتھ ہی واضح کیا کہ وہ اس کارروائی سے خوف زدہ نہیں ہیں۔
جمعرات کی رات منعقدہ پریس کانفرنس میں دیپکے نے کہا کہ وہ ملک کا ترنگا لہرانے کے لیے جیل جانے کو بھی تیار ہیں۔ ان کے مطابق، پارٹی جمعہ کو پُرامن طریقے سے ترنگا لہرانے کی مہم چلائے گی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر قومی پرچم لہرانا ہی جرم سمجھا جانے لگے تو یہ جمہوری حقوق اور شہری آزادیوں کے لیے تشویش ناک صورتحال ہے۔
دوسری جانب، نئی دہلی میونسپل کونسل (این ڈی ایم سی) نے اعلان کیا ہے کہ کناٹ پلیس کا سینٹرل پارک 16 اور 17 اکتوبر کو بند رہے گا۔ یہ وہی مقام ہے جہاں سی جے پی نے ترنگا لہرانے کا پروگرام بنایا ہے۔ دیپکے نے اس فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی پارٹی 100 مختلف مقامات پر ترنگا لہرانے کا اعلان کر دے تو کیا انتظامیہ ان تمام مقامات کو بھی بند کر دے گی؟ انہوں نے الزام لگایا کہ قومی پرچم لہرانے کے معاملے کو غیر ضروری طور پر متنازع بنایا جا رہا ہے۔
سی جے پی نے اپنے حامیوں اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ جمعہ کو سینٹرل پارک پہنچ کر قومی پرچم لہرائیں۔ پارٹی کے مطابق، اس مہم کا مقصد چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرنا ہے۔ یہ مطالبہ انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کا حصہ ہے۔
دیپکے نے کہا کہ ان کی پارٹی حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ نہیں کر رہی، بلکہ صرف چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹانے اور ان کی جگہ کسی دوسرے شخص کی تقرری چاہتی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ گیانیش کمار اپنے ساتھی الیکشن کمشنروں کی بات بھی نہیں سنتے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے چیف الیکشن کمشنر کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کرنا آخر جرم کیسے ہو سکتا ہے؟
سی جے پی رہنما نے اپنی پارٹی کے ساتھیوں سورو داس اور آشوتوش رانکا کی گرفتاری کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ شہریوں کو ترنگا لہرانے پر قید کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے سوال کیا کہ قومی پرچم لہرانے کے معاملے میں اس قدر سخت رویہ کیوں اختیار کیا جا رہا ہے؟ تاہم، یہ الزامات اور سوالات دیپکے کے اپنے بیانات پر مبنی ہیں۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ بغیر نمبر پلیٹ والی گاڑیاں ان کا پیچھا کر رہی تھیں اور انٹیلی جنس بیورو کے اہلکاروں نے ان کی رہائش گاہ کے باہر تعینات سیکیورٹی گارڈ سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ دیپکے نے کہا کہ پولیس انہیں جمعرات کی رات یا جمعہ کی صبح حراست میں لے سکتی ہے، لیکن وہ اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
اپنے بیان میں دیپکے نے موجودہ صورتحال کو ’ایمرجنسی‘ جیسا قرار دیا۔ ان کا الزام ہے کہ حکومت باضابطہ طور پر ایمرجنسی نافذ کیے بغیر ایسے اقدامات کر رہی ہے جن سے شہریوں کے جمہوری حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق، حکومت کو چیف الیکشن کمشنر کی تبدیلی کے مطالبے کو دبانے کے بجائے اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
سی جے پی کے ’لہرا دو ترنگا مارچ‘ اور سینٹرل پارک کی بندش کے معاملے نے قومی پرچم لہرانے کے حق، احتجاج کی آزادی اور انتخابی عمل کی شفافیت سے متعلق بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔ اب اس معاملے میں انتظامیہ کا موقف اور احتجاج کے دوران ہونے والی پیش رفت اہم ہوگی۔
(پی ٹی آئی کے مشمولات کے ساتھ)