ایس آئی آر میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف اپوزیشن کے مارچ پر عدالت کی ناراضگی، الیکشن کمیشن سے جواب طلب؛ راہل گاندھی کے طرزِ عمل پر بھی سوال اٹھانے کا اشارہ
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ووٹر لسٹوں سے بڑے پیمانے پر نام حذف کیے جانے اور ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق کانگریس رہنما راہل گاندھی اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کی درخواست پر الیکشن کمیشن اور متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے ایس آئی آر کے خلاف سپریم کورٹ تک کیے گئے اپوزیشن کے مارچ کا حوالہ آنے پر سخت تبصرہ کیا اور واضح کیا کہ عدلیہ کو کوئی ڈرا یا دھمکا نہیں سکتا۔
چیف جسٹس سوریا کانت اور جسٹس جوئمالیا باگچی پر مشتمل بنچ نے معاملے کی سماعت کی۔ اس دوران بعض وکلا نے ایس آئی آر میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف کانگریس اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے حالیہ مارچ کا ذکر کیا، جس کے بعد عدالت نے احتجاج اور درخواست گزاروں کے طرزِ عمل پر اپنی ناراضگی ظاہر کی۔
عدلیہ کو کوئی ڈرا نہیں سکتا: سپریم کورٹ
سماعت کے دوران بنچ نے سخت لہجے میں کہا، ’’عدلیہ کو کوئی ڈرا نہیں سکتا۔ ہم زمینی حقیقت سے دور نہیں ہیں۔‘‘ عدالت نے یہ بھی اشارہ دیا کہ وہ ایک درخواست گزار، راہل گاندھی، سے ان کے طرزِ عمل کے بارے میں سوال کرنا چاہے گی۔ اس تبصرے سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدالت ایس آئی آر سے متعلق قانونی اعتراضات کے ساتھ اس معاملے میں اپوزیشن رہنماؤں کے رویے کا بھی جائزہ لینا چاہتی ہے۔
الیکشن کمیشن اور اعلیٰ حکام کو نوٹس
بنچ نے راہل گاندھی اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کی درخواست پر الیکشن کمیشن، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کو نوٹس جاری کیے۔ عدالت نے کہا کہ اس درخواست کو پہلے سے زیرِ سماعت معاملے کے ساتھ منسلک کیا جائے گا، تاہم درخواست گزار کے طرزِ عمل پر بھی سوال کیا جائے گا۔
جنتر منتر کو احتجاجی مقامات کی فہرست سے ہٹانے کا معاملہ
سپریم کورٹ نے اسد الدین اویسی سمیت دیگر رہنماؤں کی جانب سے الیکشن کمیشن سے متعلق دائر الگ الگ درخواستوں پر بھی مرکزی حکومت اور متعلقہ فریقین سے جواب طلب کیا۔ اس کے علاوہ عدالت جنتر منتر کو احتجاجی مقامات کی فہرست سے خارج کرنے کے حکم کو چیلنج کرنے والی ایک دوسری درخواست پر غور کرنے کے لیے بھی تیار ہوگئی ہے۔
ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کا احتجاج
واضح رہے کہ راہل گاندھی اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے پیر کے روز ایس آئی آر میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف اپنی درخواست پیش کرنے کے لیے سپریم کورٹ تک مارچ کیا تھا۔ اپوزیشن جماعتیں الزام عائد کرتی رہی ہیں کہ ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کے عمل میں بڑے پیمانے پر ووٹروں کے نام حذف کیے گئے ہیں۔ اسی معاملے کو لے کر دہلی میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے جا رہے ہیں اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
تاہم، ووٹر لسٹوں میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق اپوزیشن کے الزامات اور عدالت میں زیرِ سماعت درخواستوں پر حتمی فیصلہ آنا ابھی باقی ہے۔