ایس آئی آر میں مبینہ بے ضابطگیوں اور انتخابی عمل پر سوالات کے درمیان انڈیا اتحاد کے رہنماؤں کی صدر دروپدی مرمو سے ملاقات، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور بیلٹ پیپر سے انتخابات کرانے کا مطالبہ
نئی دہلی، 9 اکتوبر: انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) میں مبینہ بے ضابطگیوں اور ووٹ چوری کے الزامات کو لے کر اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کے رہنماؤں نے جمعہ کو پارلیمنٹ سے راشٹرپتی بھون تک مارچ کیا اور صدر جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کرکے انہیں ایک یادداشت پیش کی۔ اپوزیشن نے انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا۔
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن کے ایک وفد نے صدر جمہوریہ سے ملاقات کی، جبکہ اتحاد کے دیگر ارکان پارلیمنٹ نے وجے چوک پر احتجاج اور دھرنا دیا۔ ملاقات کے بعد راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ صدر جمہوریہ نے ووٹ چوری کے الزامات کو مسترد نہیں کیا، بلکہ اپوزیشن سے ان الزامات کے ثبوت فراہم کرنے کو کہا ہے۔
راہل گاندھی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ووٹ چوری ہو رہی ہے اور اس کے پیچھے وزیر اعظم نریندر مودی کو ماسٹر مائنڈ قرار دیتے ہوئے انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر بھی الزامات عائد کیے۔ ان کے مطابق، صدر جمہوریہ نے ملاقات کے دوران ان الزامات کی تردید نہیں کی۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اپوزیشن وفد صدر کے سامنے اپنے دعووں کے حق میں ثبوت پیش کرے گا۔
صدر جمہوریہ کو یادداشت، انتخابی عمل پر تشویش کا اظہار
صدر دروپدی مرمو سے ملاقات کے بعد راہل گاندھی نے بتایا کہ اپوزیشن نے انہیں ایک یادداشت پیش کی، جس میں ووٹر لسٹوں کی نظرثانی اور انتخابی عمل سے متعلق اپنے خدشات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر جمہوریہ نے اپوزیشن کے مؤقف کو سنا اور ان سے پوچھا کہ وہ ووٹ چوری کے الزامات کو کس طرح ثابت کریں گے۔ راہل گاندھی کے مطابق، وفد نے یقین دہانی کرائی کہ وہ ثبوت فراہم کرے گا۔
بیلٹ پیپر سے انتخابات کرانے کا مطالبہ
کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے بھی انتخابی نظام میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن اتحاد نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کے بجائے بیلٹ پیپر کے ذریعے انتخابات کرانے کی تجویز پیش کی ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل کی شفافیت اور عوام کے اعتماد کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
12 اکتوبر کو چیف جسٹس سے ملاقات کا اعلان
راہل گاندھی نے مزید بتایا کہ اپوزیشن کا یہی وفد پیر، 12 اکتوبر کو چیف جسٹس آف انڈیا سے ملاقات کرکے انہیں بھی یادداشت پیش کرے گا۔ اس اقدام کے ذریعے اپوزیشن انتخابی فہرستوں کی نظرثانی اور ووٹنگ کے عمل سے متعلق اپنے خدشات کو عدالتی سطح پر بھی اٹھانا چاہتی ہے۔
صدر جمہوریہ سے ملاقات کرنے والے وفد میں راہل گاندھی، ملکارجن کھرگے، سپریا سولے، ممتا بنرجی، راجیو رائے، منوج جھا، ایم اے بیبی، ڈی راجہ اور عمر عبداللہ سمیت دیگر رہنما شامل تھے۔
’جمہوریت اور آئین آخری سانسیں لے رہے ہیں‘: پون کھیڑا
کانگریس رہنما پون کھیڑا نے انتخابی عمل پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ راشٹرپتی بھون جمہوریت کے تحفظ کا ایک اہم ادارہ ہے اور اپوزیشن رہنما اسی امید کے ساتھ صدر جمہوریہ کے پاس اپنی گزارشات لے کر پہنچے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین اپنی آخری سانسیں لے رہے ہیں اور اب انہیں بچانے کی ذمہ داری صدر جمہوریہ پر عائد ہوتی ہے۔
دوسری جانب، وجے چوک پر ہونے والے احتجاج میں کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا، کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار، کانگریس رہنما کے سی وینوگوپال، ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا، گورو گوگوئی اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے شرکت کی۔
اپوزیشن اتحاد نے انتخابی فہرستوں کی نظرثانی، ووٹنگ کے طریقۂ کار اور انتخابی شفافیت سے متعلق اپنے مطالبات کو آگے بڑھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ تاہم، ووٹ چوری اور انتخابی بے ضابطگیوں سے متعلق الزامات اپوزیشن کے دعوے ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ اداروں کا مؤقف اس معاملے میں اہم ہوگا۔