عدالت نے کہا کہ امن و امان کے نام پر لاکھوں عام شہریوں کی نقل و حرکت متاثر نہیں کی جا سکتی، سیکیورٹی اقدامات متوازن اور حالات کے مطابق ہونے چاہئیں۔
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے قومی دارالحکومت دہلی میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کے مجوزہ احتجاج کے پیش نظر میٹرو اسٹیشنوں کی بندش اور متعدد ٹرینوں کی منسوخی پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے واضح الفاظ میں کہا کہ امن و امان برقرار رکھنے کے نام پر ایسے اقدامات نہیں کیے جا سکتے جن سے عام شہریوں کی روزمرہ زندگی مفلوج ہو جائے۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت نے ریمارکس دیے کہ ’’مکھی مارنے کے لیے ہتھوڑا نہیں چلایا جا سکتا۔‘‘
چیف جسٹس سوریا کانت نے مرکزی حکومت کی نمائندگی کرنے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے کہا کہ عدالت کی تشویش صرف احتجاج کرنے والوں تک محدود نہیں، بلکہ ان لاکھوں شہریوں سے بھی متعلق ہے جو روزگار اور دیگر ضروری کاموں کے لیے روزانہ گروگرام، گریٹر نوئیڈا، مشرقی دہلی اور جنوبی دہلی سے دارالحکومت آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر شخص کے پاس ذاتی گاڑی یا متبادل سواری کی سہولت نہیں ہوتی اور بڑی تعداد میں لوگ میٹرو اور دیگر عوامی ذرائع آمدورفت پر انحصار کرتے ہیں۔
عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں، بزرگوں، ملازمین اور دیگر مسافروں کے لیے آمدورفت کی بنیادی سہولیات برقرار رہنی چاہئیں۔ سیکیورٹی کے انتظامات ضروری ہیں، لیکن ان کے نام پر پورے شہر کے نقل و حمل کے نظام کو مفلوج کرنا مناسب نہیں۔ انتظامی احتیاط اور مکمل بندش کے درمیان فرق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
یہ معاملہ سی پی آئی (ایم) کے جنرل سیکریٹری ایم اے بے بی کی جانب سے دائر کردہ عرضی کی سماعت کے دوران سامنے آیا۔ درخواست گزار کی طرف سے سینئر وکیل اور رکن پارلیمنٹ کپل سبل عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ متعدد ٹرینیں منسوخ کر دی گئی ہیں اور میٹرو اسٹیشنوں کو بند کرنے کے اقدامات کیے گئے ہیں، جس سے شہریوں کی نقل و حرکت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق احتجاج پُرامن نوعیت کا ہے، اس لیے اس کے پیش نظر عام لوگوں کی آمدورفت پر وسیع پیمانے پر پابندیاں عائد کرنا مناسب نہیں۔
مرکزی حکومت کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے گزشتہ جولائی میں سی جے پی کے احتجاج کے دوران پیش آنے والے مبینہ پُرتشدد واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے سیکیورٹی خدشات کی وضاحت کی۔ تاہم، عدالت کے سخت ریمارکس کے بعد انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وہ حکومت سے دوبارہ مشاورت کریں گے اور میٹرو و ریلوے خدمات کے حوالے سے ایسے اقدامات پر غور کیا جائے گا جو سیکیورٹی کے تقاضوں اور عام شہریوں کی سہولت کے درمیان توازن برقرار رکھ سکیں۔
واضح رہے کہ 10 اکتوبر کو جنتر منتر پر ممکنہ احتجاج کے پیش نظر دہلی میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ بھیڑ کو قابو میں رکھنے اور کسی ناخوش گوار واقعے سے بچنے کے لیے دہلی میٹرو کے 57 اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی دروازے جمعہ کی رات 9 بجے سے بند کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ نئی دہلی اور حضرت نظام الدین ریلوے اسٹیشنوں پر آنے والی 61 ٹرینیں جمعہ اور ہفتہ کے دوران منسوخ کیے جانے کی اطلاع تھی۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے میں یہ اشارہ دیا کہ مکمل بندش کے بجائے متبادل انتظامات اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ عدالت کے مطابق، میٹرو خدمات کے اوقات یا شیڈول میں ضرورت کے مطابق تبدیلی کرکے بھیڑ کو منظم کیا جا سکتا ہے، جبکہ عام مسافروں کو غیر ضروری پریشانی سے بچایا جا سکتا ہے۔ سڑکوں کی بندش کے معاملے پر بھی نظرثانی کی ضرورت پر زور دیا گیا، تاکہ پابندیاں پورے شہر میں بلاامتیاز نافذ کرنے کے بجائے صرف حساس مقامات تک محدود رکھی جا سکیں۔
سپریم کورٹ کے ان ریمارکس سے واضح ہوتا ہے کہ سیکیورٹی انتظامات اور شہریوں کے بنیادی سفری حقوق کے درمیان توازن قائم رکھنا انتظامیہ کی اہم ذمہ داری ہے۔ احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنا ضروری ہے، لیکن اس کی قیمت عام شہریوں کو اپنی روزمرہ زندگی، روزگار اور آمدورفت میں غیر ضروری رکاوٹوں کی صورت میں ادا نہیں کرنی چاہیے۔