نیپال میں 26 اگست کو آنے والے تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ شمالی اور وسطی علاقوں میں آنے والے شدید سیلابی ریلے نے گھروں، سڑکوں، پلوں اور گاڑیوں کو بہا دیا، جبکہ متعدد پن بجلی منصوبے بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ان منصوبوں میں کام کرنے والے سیکڑوں مزدوروں اور ملازمین کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں، جن کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ حکام کے مطابق اب تک تقریباً 280 افراد کو مختلف سرنگوں اور زیرِ زمین مقامات سے بحفاظت نکالا جا چکا ہے، تاہم کئی افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
سیلاب کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کئی مقامات پر مزدوروں کو اپنی جان بچانے کے لیے سرنگیں چھوڑ کر پہاڑی علاقوں کا رخ کرنا پڑا۔ میلنگ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے تکنیکی ملازم شیو گری نے بتایا کہ سیلابی پانی اچانک اور انتہائی تیزی سے بڑھنے لگا، جس کے بعد وہ چھ دیگر افراد کے ساتھ جان بچانے کے لیے پہاڑی کی طرف چڑھ گئے۔
شیو گری کے مطابق فرار کے دوران انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے کئی مکانات، بستیاں اور دیگر تعمیرات کو خوفناک سیلابی ریلے میں بہتے دیکھا۔ اس دوران ان کے کئی ساتھی مزدور تیز دھارے کی زد میں آ گئے، جبکہ ان کا ایک کزن بھی لاپتہ ہوگیا۔
سیلاب کے باعث تیمورے اور دھونچے قصبوں سے رابطے کے معمول کے راستے مکمل طور پر بند ہو گئے تھے۔ ایسی صورت حال میں گروپ نے تقریباً 12 گھنٹے تک دشوار گزار جنگل کے راستے پیدل سفر کیا اور بالآخر ایک غار میں پناہ لینے پر مجبور ہوگیا۔ اگلے روز حالات کچھ بہتر ہونے پر وہ منصوبے کی جانب واپس اترے اور امداد کے لیے رابطہ کیا۔
بعد ازاں نیپالی فوج کے ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے شیو گری سمیت دیگر افراد کو کٹھمنڈو منتقل کیا گیا، جہاں گری کا علاج جاری ہے۔
نیپال حکومت نے لاپتہ افراد کی تلاش اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کے لیے کارروائیاں تیز کردی ہیں۔ ہندوستان اور چین کے ماہرین بھی سرچ اور ریسکیو آپریشن میں نیپالی حکام کی مدد کر رہے ہیں۔ تاہم دشوار گزار پہاڑی علاقے، تباہ شدہ سڑکیں اور سرنگوں میں جمع ملبہ امدادی ٹیموں کے لیے سب سے بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔
تباہ کن سیلاب کے بعد پن بجلی منصوبوں کے اطراف کی صورتحال نے کئی خاندانوں کو اپنے پیاروں کے بارے میں تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جبکہ ریسکیو ٹیمیں ملبے اور سرنگوں کے اندر پھنسے یا لاپتہ افراد کو تلاش کرنے کی مسلسل کوشش کر رہی ہیں۔