ڈیزل اور کھاد کی بڑھتی قیمتوں سے پریشان امریکی کسانوں کے لیے راحت، ایران جنگ اور تجارتی پالیسیوں کے اثرات کے درمیان دیہی ووٹروں کو اپنے حق میں کرنے کی کوشش؟
واشنگٹن: امریکہ میں وسط مدتی انتخابات سے محض دو روز قبل صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حکومت نے کسانوں کے لیے 15 ارب ڈالر (تقریباً 1.3 لاکھ کروڑ روپے) سے زائد کے امدادی پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ اس امداد کا بنیادی مقصد ڈیزل، کھاد اور دیگر زرعی اخراجات میں اضافے سے پریشان کسانوں کو مالی راحت فراہم کرنا ہے۔ تاہم انتخابی مہم کے عین آخری مرحلے میں کیے گئے اس اعلان کو دیہی علاقوں میں اپنی سیاسی حمایت مضبوط کرنے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
امریکی کسان گزشتہ کچھ عرصے سے بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت، مہنگے ایندھن اور زرعی مصنوعات کی فروخت میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ڈیزل اور کھاد کی قیمتوں میں اضافے کے پیچھے ٹرمپ انتظامیہ کی تجارتی محصولات (ٹیرف) کی پالیسی اور ایران جنگ کے اثرات بھی شامل ہیں۔ چین کے ساتھ تجارتی کشیدگی نے امریکی زرعی مصنوعات کی برآمدات کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایسے حالات میں ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران دیہی علاقوں پر خصوصی توجہ مرکوز کر دی ہے۔ وہ اتوار کو آئیووا اور کنساس کے دورے پر بھی گئے، جہاں انتخابی مقابلہ سخت تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی محکمۂ زراعت (یو ایس ڈی اے) کے مطابق، امدادی پیکیج میں سب سے بڑا حصہ 8 ارب ڈالر کا ہے، جو ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں سے متاثرہ کسانوں کو یکمشت مالی امداد کے طور پر دیا جائے گا۔ تاہم اس رقم کی تقسیم کا طریقہ، ادائیگی کا وقت اور ہر کسان کو ملنے والی امداد کی تفصیلات ابھی واضح نہیں کی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ مویشی پالنے والوں اور ماہی گیروں کے لیے 5 ارب ڈالر سے زائد کے قرض کی سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ حکومتی تحفظاتی اسکیموں میں شامل کسانوں اور زمین مالکان کو 1.8 ارب ڈالر دیے جائیں گے۔ کھاد تیار کرنے کے منصوبوں کے لیے 573 ملین ڈالر اور گوشت کی پروسیسنگ کے یونٹوں کی توسیع کے لیے 57 ملین ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔ جب کہ فصلوں کی کاشت سے وابستہ کسانوں کے نئے منصوبوں کے لیے 86.6 ملین ڈالر کی فنڈنگ فراہم کی جائے گی۔
حکومت 472.5 ملین ڈالر تک کی زرعی پیداوار بھی خریدے گی، جسے ضرورت مند افراد کی مدد کرنے والے اداروں کے حوالے کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ 2025 کی فصل کے لیے اہل کسانوں کو 13.8 ارب ڈالر کی الگ امداد فراہم کی جائے گی۔ اس اسکیم سے مکئی، سویابین، گیہوں اور چاول کی کاشت کرنے والے کسانوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
کسانوں پر مہنگائی کا دباؤ
امریکہ میں رواں سال کھیتی باڑی کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ کھاد، ڈیزل اور زرعی آلات کی قیمتیں بڑھنے سے کسانوں کے لیے فصلوں کی پیداوار پہلے کے مقابلے زیادہ مہنگی ہو گئی ہے۔ اس صورت حال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی تنظیم اے اے اے کے مطابق گزشتہ جمعہ کو ڈیزل کی اوسط قیمت 6.32 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی، جو ایک سال پہلے کے مقابلے تقریباً 70 فیصد زیادہ ہے۔ اب 100 گیلن کا ٹینک بھروانے کے لیے کسانوں کو گزشتہ سال کے مقابلے 260 ڈالر اضافی خرچ کرنے پڑ رہے ہیں۔
کنساس اسٹیٹ یونیورسٹی کے زرعی ماہر گریگ ایبینڈال کے مطابق، سرکاری امداد سے کسانوں کو ایندھن کے اضافی اخراجات پورے کرنے اور کھاد کی مہنگائی سے کچھ راحت مل سکتی ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ امداد زرعی پیداوار کی بڑھتی ہوئی لاگت کے بنیادی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے۔
وچیٹا اسٹیٹ یونیورسٹی کی پروفیسر الیگزینڈرا مڈل ووڈ کا بھی کہنا ہے کہ کچھ کسان سرکاری امداد کے اعلان سے مطمئن ہیں، لیکن اسے طویل مدتی حل نہیں سمجھتے۔ ان کے مطابق دیہی علاقوں میں مہنگائی اور علاج معالجے کی سہولتوں تک رسائی اب بھی اہم انتخابی مسائل ہیں۔
کیا امدادی پیکیج ٹرمپ کے لیے انتخابی فائدہ مند ثابت ہوگا؟
کسانوں کے لیے اس بڑے امدادی پیکیج کے اعلان کے باوجود ٹرمپ حکومت کے سامنے دیہی ووٹروں کی ناراضگی دور کرنے کا چیلنج برقرار ہے۔ ماہرین کے مطابق، امیگریشن کے خلاف سخت کارروائیوں سے زرعی شعبے میں کام کرنے والے مزدوروں کی قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ اس کے علاوہ غیر ملکی امداد اور غذائی امداد کے پروگرام ایس این اے پی (SNAP) میں کٹوتی سے بھی زرعی مصنوعات کی طلب متاثر ہو سکتی ہے۔
ایمپوریہ اسٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر مائیکل اسمتھ کے مطابق، دیہی علاقوں کے بہت سے ووٹر ٹرمپ کی حمایت تو کرتے ہیں، لیکن ضروری نہیں کہ وہ ان کی تمام پالیسیوں سے اتفاق بھی رکھتے ہوں۔ دوسری جانب الیگزینڈرا مڈل ووڈ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ سے ناراض ووٹر لازماً ڈیموکریٹک پارٹی کی حمایت کریں گے، یہ بھی ضروری نہیں۔ بعض ووٹر انتخابات میں حصہ نہ لینے یا آزاد امیدواروں کو ووٹ دینے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔
ایسے میں کسانوں کے لیے اربوں ڈالر کی امداد کا اعلان ٹرمپ حکومت کے لیے فوری سیاسی فائدے کا ذریعہ بنے گا یا نہیں، اس کا فیصلہ انتخابی نتائج ہی کریں گے۔ تاہم یہ واضح ہے کہ مہنگائی، زرعی اخراجات اور دیہی معیشت کے مسائل اس بار امریکی وسط مدتی انتخابات میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔