اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کی ووٹ چوری مہم کے جواب میں بی جے پی کا ملک گیر احتجاجی پروگرام، تین شہروں میں سینئر رہنما کریں گے پیدل مارچ
حیدرآباد: اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کی جانب سے بی جے پی اور الیکشن کمیشن کے خلاف مبینہ ووٹ چوری کے الزامات کے درمیان بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) آج پیر سے ’جمہوریت بچاؤ، لاقانونیت ہٹاؤ‘ کے عنوان سے ملک گیر مہم شروع کر رہی ہے۔ اس مہم کے تحت مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ حیدرآباد میں، جب کہ بی جے پی کے قومی صدر نتن نبین بہار اور مغربی بنگال میں پیدل مارچ کی قیادت کریں گے۔
بی جے پی کی یہ مہم ایسے وقت میں شروع ہو رہی ہے، جب اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں، ووٹوں کی چوری اور مختلف ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں نتائج پر اثرانداز ہونے کے الزامات کے ساتھ مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اتوار کو دہلی کے رام لیلا میدان میں انڈیا اتحاد نے اسی معاملے پر ایک بڑی ریلی بھی منعقد کی تھی۔ بی جے پی اب اپنی مہم کے ذریعے اپوزیشن کے الزامات کا جواب دینے اور اس کے بیانیے کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
بی جے پی نے اپنے اس احتجاجی پروگرام کو اپوزیشن کی جانب سے پھیلائی جانے والی مبینہ غلط معلومات اور منظم لاقانونیت کے خلاف مہم قرار دیا ہے۔ پارٹی کے مطابق، نتن نبین پیر 2 نومبر کو بہار کے بھاگلپور سے اس مہم کے پہلے پیدل مارچ کی قیادت کریں گے۔ مارچ صبح 11 بجے لاجپت پارک سے شروع ہو کر دوپہر 12:30 بجے سیوا جیوتی چوک پر اختتام پذیر ہوگا۔
بھاگلپور میں پروگرام مکمل کرنے کے بعد نتن نبین کولکاتا روانہ ہوں گے، جہاں وہ مغربی بنگال میں بھی پیدل مارچ کی قیادت کریں گے۔ بی جے پی کے پریس نوٹ کے مطابق، یہ مارچ دوپہر 3 بجے کالج اسٹریٹ سے شروع ہوگا اور شام 5:30 بجے دھرم تلہ پر ختم ہوگا۔
ادھر تلنگانہ میں بھی بی جے پی نے اپوزیشن کی مہم کے جواب میں طاقت کا مظاہرہ کرنے کی تیاری کی ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پیر کو حیدرآباد میں پیدل مارچ کی قیادت کریں گے۔ یہ مارچ بشیر باغ میں بابو جگجیون رام کے مجسمے سے شروع ہو کر معظم جاہی مارکیٹ تک نکالا جائے گا۔ تلنگانہ بی جے پی اسے خصوصی طور پر ووٹر لسٹوں کی نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف کانگریس کی مبینہ گمراہ کن مہم کا جواب قرار دے رہی ہے۔
مرکزی وزیر کوئلہ جی کشن ریڈی اور تلنگانہ بی جے پی کے صدر این رام چندر راؤ نے اتوار کو مارچ کے مجوزہ راستے کا معائنہ کیا اور انتظامات کا جائزہ لیا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، اس دوران سکیورٹی سمیت دیگر انتظامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
این رام چندر راؤ نے بتایا کہ امت شاہ معظم جاہی مارکیٹ میں عوام سے خطاب بھی کریں گے۔ ان کے مطابق، اس مارچ میں وکلا، ڈاکٹر، دانشور، پارٹی کارکنان اور عام شہریوں سمیت ہزاروں افراد کی شرکت متوقع ہے۔
دوسری جانب، انڈیا اتحاد کی اتوار کو دہلی میں منعقدہ ریلی میں بی جے پی کو انتخابی بے ضابطگیوں اور مبینہ ووٹ چوری کے معاملے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ کانگریس رہنما راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں انہیں عہدے سے ہٹا کر غداری کے الزام میں جیل بھیجا جائے گا۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور امت شاہ کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی بات کہی۔
اس طرح ایک طرف اپوزیشن اتحاد انتخابی عمل کی شفافیت کو لے کر حکومت اور الیکشن کمیشن پر دباؤ بڑھا رہا ہے، تو دوسری طرف بی جے پی اپنی جوابی مہم کے ذریعے اپوزیشن کے الزامات کو چیلنج کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ سیاسی کشمکش مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔