انڈیا بلاک کی پریس کانفرنس میں اپوزیشن کا عزم، ووٹ چوری کے الزامات پر احتساب کا مطالبہ؛ راہل گاندھی کی رہائش گاہ پر اپوزیشن رہنماؤں، طلبہ تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی ٹی پارٹی میں آئندہ کی حکمت عملی پر تبادلۂ خیال
نئی دہلی: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبے اور انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف اپوزیشن کی تحریک جاری رکھنے کے عزم کے ساتھ انڈیا بلاک کے رہنماؤں نے متحد ہوکر جدوجہد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے کہا کہ جمہوریت کے تحفظ کی لڑائی میں تمام اپوزیشن جماعتیں متحد ہیں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا استعفیٰ اب ان کا مشن ہے۔ انہوں نے ووٹ چوری کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں ملوث افراد کا احتساب ہونا چاہیے۔
دہلی میں پیر کے روز ہونے والے احتجاج کے بعد منگل کو راہل گاندھی کی رہائش گاہ پر انڈیا بلاک کے رہنماؤں، اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ، طلبہ تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے لیے ٹی پارٹی کا اہتمام کیا گیا۔ اس ملاقات میں آئندہ کی حکمت عملی، انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن کے مطالبات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
راہل گاندھی نے کہا کہ جمہوریت کو بچانے کی جدوجہد میں تمام جماعتیں ایک ساتھ ہیں۔ ان کے مطابق، ملک میں جمہوریت کو نقصان پہنچایا گیا ہے اور اب اسے بچانا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا نام لیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن اپنی لڑائی جاری رکھے گی اور ووٹ چوری کے معاملے میں کسی کو بھی جواب دہی سے بچنے نہیں دیا جائے گا۔
ٹی پارٹی میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، سابق کانگریس صدر سونیا گاندھی، پارٹی رہنما کے سی وینوگوپال، جے رام رمیش، ششی تھرور اور پون کھیڑا سمیت مختلف اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ آر جے ڈی کے تیجسوی یادو اور منوج جھا، جھارکھنڈ مکتی مورچہ کی مہوا ماجی، سماج وادی پارٹی کے ہریندر ملک، آنند بھدوریا اور محب اللہ ندوی، سی پی آئی (ایم) کے ایم اے بے بی، سی پی آئی کے ڈی راجہ اور پی سنتوش کمار، سی پی آئی (ایم ایل) کے دیپانکر بھٹاچاریہ، ترنمول کانگریس کی مہوا موئترا اور طلبہ تنظیم آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (اے آئی ایس اے) کی صدر نیہا بورا بھی موجود تھیں۔
کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے دہلی میں پیر کے روز ہونے والے احتجاج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی سڑکوں پر آمد غیر معمولی تھی۔ اپوزیشن رہنماؤں نے اس موقع پر واضح کیا کہ انتخابی عمل کی شفافیت اور آئینی اداروں کی خودمختاری کے سوال پر ان کی تحریک جاری رہے گی۔
آر جے ڈی رہنما تیجسوی یادو نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر الزام لگایا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے اشاروں پر کام کرتے ہوئے جمہوریت کو کمزور کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے تحفظ کے لیے اپوزیشن کو جو بھی قربانیاں دینی پڑیں، وہ اس کے لیے تیار ہے۔ تیجسوی یادو کے مطابق، ملک کے آئینی اداروں کو اپنے کنٹرول میں لینے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن اپوزیشن جماعتیں مل کر اس کا مقابلہ کریں گی۔
نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شردچندرا پوار) کی رہنما سپریہ سولے نے بھی حکومت پر آئین کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ناانصافی اور جبر کے خلاف متحد ہے اور اس کی جدوجہد جاری رہے گی۔
سماج وادی پارٹی کے رہنما ہریندر ملک نے اتحاد برقرار رکھنے اور آخری سانس تک لڑنے کے عزم کا اظہار کیا، جبکہ سی پی آئی (ایم) کے جنرل سکریٹری ایم اے بے بی نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر اور ووٹ چوری کے الزامات کے خلاف تحریک جاری رہے گی۔
ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ ساگاریکا گھوش نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن کی موجودہ قیادت منصفانہ انتخابات کے نظام کو کمزور کر رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹانے اور مبینہ بے ضابطگیوں کے ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی ہونے تک اپوزیشن اپنی تحریک جاری رکھے گی۔
شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے رہنما سنجے راوت نے بھی چیف الیکشن کمشنر کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کی قیادت میں یہ جدوجہد جاری رہے گی اور اسے ملک گیر سطح پر آگے بڑھایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں اس لڑائی میں ایک ساتھ ہیں اور متحد رہیں گی۔
ادھر اے آئی ایس اے کی صدر نیہا بورا نے بی جے پی پر آئین اور جمہوریت کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے دنوں میں بھی جدوجہد جاری رہے گی۔
راہل گاندھی نے اس سے قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی کہا تھا کہ انڈیا بلاک کی جماعتیں، اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ، طلبہ تنظیمیں اور سول سوسائٹی کے نمائندے جمہوریت کے تحفظ کی عوامی تحریک میں متحد ہیں۔ ٹی پارٹی کو اسی اتحاد کو برقرار رکھنے اور آئندہ کی حکمت عملی طے کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔