کراچی سے پشاور جانے والی ٹرین ملتان کے قریب حادثے کا شکار، تقریباً 500 مسافر تھے سوار؛ وزیراعظم شہباز شریف نے امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت دی
لاہور: پاکستان کے صوبہ پنجاب میں منگل کی صبح ایک بڑا ٹرین حادثہ پیش آیا، جس میں کم از کم 6 افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہو گئے۔ حادثہ صبح تقریباً 5 بج کر 15 منٹ پر ملتان میں شیر شاہ پل کے قریب پیش آیا، جہاں کراچی سے پشاور جانے والی رحمان بابا ایکسپریس کی تمام 14 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔ حادثے کے وقت ٹرین میں تقریباً 500 مسافر سوار تھے۔
پاکستان ریلوے کے ترجمان بابر علی کے مطابق، ٹرین ملتان کے شیر شاہ اسٹیشن سے گزر رہی تھی کہ اچانک اسے ایک زوردار جھٹکا محسوس ہوا۔ لوکو پائلٹ نے فوری طور پر بریک لگائی، تاہم اس وقت تک ٹرین کی تمام 14 بوگیاں پٹری سے اتر چکی تھیں۔ حادثے کی اصل وجہ تاحال واضح نہیں ہو سکی ہے۔
حادثے کے فوراً بعد پولیس، ریسکیو اہلکاروں اور طبی ٹیموں نے امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جبکہ ایک مسافر کے بوگی میں پھنسے ہونے کی اطلاع کے بعد امدادی کارکن اسے نکالنے کی کوشش میں مصروف ہو گئے۔ امدادی کارروائیوں میں تیزی لانے کے لیے ملتان سے ایک ریلیف ٹرین اور میڈیکل وین بھی جائے حادثہ کی جانب روانہ کی گئی۔
حادثے کے باعث ریلوے کی اپ اور ڈاؤن، دونوں لائنوں پر ٹرینوں کی آمدورفت معطل ہو گئی، جس سے اس روٹ پر ریل خدمات متاثر ہوئیں۔ حکام نے جائے حادثہ پر امدادی سرگرمیاں جاری رکھتے ہوئے متاثرہ مسافروں کو ضروری سہولتیں فراہم کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔
کمشنر ملتان عامر کریم خان نے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور متاثرہ مسافروں اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کرکے انہیں ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی۔ اس دوران ایک مسافر نے صحافیوں کو بتایا کہ حادثے سے قبل روہڑی کے قریب مزدوروں نے ٹرین کی نویں بوگی کے نٹ اور بولٹس کی مرمت کی تھی۔ تاہم، اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور یہ بھی واضح نہیں کہ آیا اس مرمت کا حادثے سے کوئی تعلق تھا۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ٹرین حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو امدادی کارروائیاں تیز کرنے اور زخمیوں کو بلا تاخیر بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔
حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں۔ حکام کی جانب سے تحقیقات کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ ٹرین کے پٹری سے اترنے کی اصل وجہ کیا تھی۔