انتظامیہ کے نوٹس کو طلباء نے مبہم قرار دے کر مسترد کر دیا؛ کہا، مطالبات کی منظوری اور انتخابات کی حتمی تاریخ کے اعلان تک بھوک ہڑتال اور احتجاج جاری رہے گا۔
نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلباء یونین کی بحالی اور انتخابات کے انعقاد کے مطالبے پر جاری احتجاج ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ پیر کے روز احتجاج کرنے والے طلباء نے یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ جب تک ان کے مطالبات پر تحریری اور واضح یقین دہانی نہیں کرائی جاتی، ان کی تحریک جاری رہے گی۔ اس دوران جامعہ کے سابق طلباء اور طلباء نمائندوں نے بھی احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے کیمپس میں جمہوری ماحول اور منتخب طلباء نمائندگی کی بحالی پر زور دیا۔
جامعہ نگر کے علاقے میں واقع ’سیدہ منزل‘ میں ’جامعہ کلیکٹو‘ کے زیر اہتمام منعقدہ پریس کانفرنس میں سابق طلباء اور طلباء نمائندوں نے یونیورسٹی میں تقریباً دو دہائیوں سے منتخب طلباء یونین کی عدم موجودگی پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے احتجاج کرنے والے طلباء کی نگرانی اور ان کے خلاف تادیبی کارروائیوں کے الزامات بھی عائد کیے۔
احتجاجی طلباء کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹس میں طلباء یونین کی بحالی کے بنیادی مطالبے پر کوئی واضح یقین دہانی نہیں کرائی گئی ہے۔ ان کے مطابق، نوٹس میں یونین کے آئین کی منظوری کے لیے کوئی حتمی مدت مقرر نہیں کی گئی، جب کہ انتخابات کے انعقاد کے لیے بھی واضح تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ طلباء نے انتظامیہ کی یقین دہانیوں کو مبہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ محض عمومی بیانات یا نوٹس جاری کرنے سے ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے۔
’مطالبات کی منظوری تک بھوک ہڑتال جاری رہے گی‘
طلباء نے واضح کیا کہ ان کا احتجاج 14ویں روز میں داخل ہو چکا ہے اور بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلباء بھی اپنے مطالبات کی تکمیل تک احتجاج جاری رکھیں گے۔ انہوں نے ان خبروں کی تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ طلباء نے انتظامیہ کی یقین دہانی قبول کرکے احتجاج ختم کر دیا ہے۔ مظاہرین کے مطابق، ایسی خبریں انتظامیہ کے موقف کی عکاسی کرتی ہیں، نہ کہ احتجاج کرنے والے طلباء کے اصل مؤقف کی۔
طلباء نے مطالبہ کیا کہ انتظامیہ طلباء یونین کی بحالی، اس کے آئین کی منظوری اور انتخابات کے انعقاد کے لیے واضح اور تحریری لائحۂ عمل پیش کرے۔ اس کے علاوہ انہوں نے چیف پراکٹر کے استعفے اور سیکیورٹی ایڈوائزر کے عہدے کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
سیکیورٹی انتظامات اور نگرانی پر سوالات
پریس کانفرنس میں اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) کے نمائندوں نے یونیورسٹی کے سیکیورٹی ایڈوائزر کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ اس عہدے کو احتجاج کرنے والے طلباء کی نگرانی اور یونیورسٹی انتظامیہ و دہلی پولیس کے درمیان رابطے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ طلباء نے دعویٰ کیا کہ مظاہرین کے خلاف شکایات پراکٹر کے دفتر بھیجی جا رہی ہیں۔
مقررین نے کیمپس میں سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی پر بھی تشویش ظاہر کی۔ طلباء کا الزام ہے کہ انڈو تبتن بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کے اہلکار یونیورسٹی میں موجود ہیں۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جاری کشیدگی کے دوران کینٹین اور لائبریری بند ہیں۔ جامعہ کی سابق طالبہ ثمینہ مشرا نے اس موقع پر کیمپس میں جمہوری ماحول برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
انتظامیہ نے انتخابات کرانے کا اعلان کیا
دوسری جانب، جامعہ ملیہ اسلامیہ کی انتظامیہ نے پیر، 26 اکتوبر کو جاری حکم نامے میں اعلان کیا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات یونین کے آئین کی منظوری کے 15 دن بعد منعقد کیے جائیں گے۔ یہ فیصلہ طلباء اور ان کے نمائندوں کی جانب سے پیش کردہ مطالبات کے چارٹر پر غور کے بعد کیا گیا۔ حکم نامہ یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر مہتاب عالم رضوی کی جانب سے جاری کیا گیا۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے 2006 میں طلباء یونین کو تحلیل کر دیا تھا۔ اس کے بعد سے منتخب طلباء یونین کی بحالی کا مطالبہ مختلف مواقع پر اٹھایا جاتا رہا ہے۔ موجودہ احتجاج اور بھوک ہڑتال بھی اسی دیرینہ مطالبے کے تحت کی جا رہی ہے۔
تاہم، انتظامیہ کے تازہ اعلان کے باوجود احتجاجی طلباء مطمئن نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انتخابات کے لیے 15 دن کی مدت آئین کی منظوری کے بعد شروع ہوگی، لیکن آئین کو کب منظوری دی جائے گی، اس بارے میں حکم نامے میں کوئی حتمی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔
طلباء نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ صرف یقین دہانیوں پر اکتفا نہیں کریں گے، بلکہ طلباء یونین کی بحالی، انتخابات کے واضح شیڈول اور دیگر مطالبات پر ٹھوس فیصلے چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق، جب تک انتظامیہ تمام زیر التوا مسائل پر تحریری یقین دہانی اور مقررہ مدت کے ساتھ عملی اقدامات نہیں کرتی، احتجاج اور بھوک ہڑتال جاری رہے گی۔