صومالی قزاقوں نے ایرانی عملے پر مشتمل ماہی گیری کے جہاز ’ازینی‘ کو اغوا کر لیا تھا؛ 48 گھنٹے تک جاری رہنے والے ریسکیو آپریشن میں ہندوستانی بحریہ کو فضائیہ کا بھی تعاون حاصل رہا۔
نئی دہلی: ہندوستانی بحریہ نے بحیرۂ عرب میں ایک بڑے ریسکیو آپریشن کے دوران سمندری لٹیروں کے قبضے میں موجود ماہی گیری کے جہاز اور اس پر سوار عملے کے تمام 20 ارکان کو بحفاظت آزاد کرا لیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی سے تقریباً 3 ہزار کلومیٹر دور انجام دی گئی۔ آپریشن میں ہندوستانی بحریہ کے ساتھ فضائیہ نے بھی تعاون کیا، جب کہ کارروائی مکمل ہونے میں تقریباً 48 گھنٹے لگے۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اس کامیاب آپریشن کی اطلاع دیتے ہوئے ہندوستانی بحریہ اور فضائیہ کے جوانوں کو مبارک باد دی۔ انہوں نے بتایا کہ بھاری ہتھیاروں سے لیس سمندری لٹیروں کے قبضے سے جہاز اور اس کے عملے کو آزاد کرانے کے لیے مشترکہ کارروائی کی گئی۔
راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ہندوستانی فوج کے جوانوں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ ملک سمندر میں مشکل حالات سے دوچار لوگوں کی جان بچانے اور ان کی حفاظت کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے بحر ہند کے پورے خطے میں امن، سلامتی اور استحکام برقرار رکھنے کے ہندوستان کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
صومالی قزاقوں نے جہاز پر کیا تھا قبضہ
اطلاعات کے مطابق، ’ازینی‘ نامی ماہی گیری کے جہاز کو صومالیہ کے شمال مشرقی ساحل کے قریب سمندری قزاقوں نے اغوا کر لیا تھا۔ جمعرات کے روز بندر بائیلا اور ہافون کے ساحلی شہروں کے درمیان اس جہاز پر قبضہ کیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ تقریباً 12 مسلح قزاق اس کارروائی میں ملوث تھے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، جہاز پر ایرانی عملے کے 20 ارکان سوار تھے۔ اغوا کی اطلاع ملنے کے بعد ہندوستانی بحریہ نے صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے ریسکیو آپریشن شروع کیا، جس میں فضائیہ کی مدد بھی حاصل کی گئی۔ مسلسل 48 گھنٹے کی کارروائی کے بعد تمام مغویوں کو بحفاظت آزاد کرا لیا گیا۔
بحیرۂ عرب اور بحر ہند میں قزاقی کے واقعات میں اضافہ
’ازینی‘ کا اغوا ایسے وقت میں ہوا ہے جب خلیج عدن اور مغربی بحر ہند میں صومالی سمندری قزاقوں کی سرگرمیاں ایک بار پھر بڑھ رہی ہیں۔ گزشتہ چند مہینوں کے دوران تجارتی جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں کو نشانہ بنانے کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، اپریل سے اگست کے درمیان سمندری قزاقوں نے کم از کم چھ تجارتی جہازوں کو اغوا کیا۔ ان میں تیل بردار جہاز ’سیبو 1‘ بھی شامل تھا، جسے یمن کے ساحلی شہر المکلا سے تقریباً 252 کلومیٹر مشرق میں اغوا کیا گیا تھا۔
سمندری قزاقی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے بحر ہند اور اس سے متصل اہم بحری راستوں کی سلامتی کے حوالے سے تشویش پیدا کر دی ہے۔ ایسے حالات میں ہندوستانی بحریہ کی یہ کارروائی نہ صرف مغوی عملے کی بحفاظت رہائی کے لحاظ سے اہم ہے بلکہ خطے میں بحری سلامتی کے تحفظ کے لیے ہندوستان کے کردار کو بھی نمایاں کرتی ہے۔