’’ترمیم شدہ تجاویز کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے پہلے تمام جماعتوں کو ان کا مطالعہ اور بحث کا پورا موقع دیا جائے۔‘‘
’’ترمیم شدہ تجاویز کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے پہلے تمام جماعتوں کو ان کا مطالعہ اور بحث کا پورا موقع دیا جائے۔‘‘
اس خبر پر کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھڑگے نے سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ حکومت ایک بار پھر ماضی کی غلطی دہرانے جا رہی ہے اور اتنے اہم آئینی معاملے پر پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے پہلے وسیع مشاورت ضروری ہے۔
اپنے خط میں کھڑگے نے مطالبہ کیا کہ ترمیم شدہ حد بندی تجاویز پر غور و خوض کے لیے فوری طور پر کل جماعتی اجلاس بلایا جائے تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو مجوزہ تبدیلیوں کا تفصیلی مطالعہ اور اپنی رائے پیش کرنے کا مناسب موقع مل سکے۔
کھڑگے نے خط میں لکھا:
’’میں درخواست کرتا ہوں کہ حد بندی سے متعلق حکومت کی ترمیم شدہ تجاویز پر بحث کے لیے ایک کل جماعتی اجلاس بلایا جائے۔ ان تجاویز کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے پہلے ہمیں ان کا مطالعہ کرنے اور اپنی رائے دینے کے لیے مناسب وقت دیا جائے۔‘‘
کانگریس کا کہنا ہے کہ حد بندی جیسے اہم آئینی معاملے پر اتفاقِ رائے پیدا کیے بغیر قانون سازی کرنا جمہوری روایت کے منافی ہوگا، اس لیے حکومت کو تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر ہی آگے بڑھنا چاہیے۔