آبنائے ہرمز میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ ایرانی مال بردار جہاز کو جزیرہ قشم کے قریب نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ 4 دیگر زخمی ہو گئے۔ حملے کے بعد خطے میں بحری جہازوں کی آمدورفت اور سلامتی سے متعلق خدشات ایک مرتبہ پھر بڑھ گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ حملہ اتوار کے روز جزیرہ قشم کے قریب پیش آیا۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ نے قشم کے گورنر کے حوالے سے بتایا کہ حملے کے لیے ایک ’’دہشت گرد دشمن‘‘ ذمہ دار ہے۔ تاہم ایرانی حکام نے حملہ کرنے والے کی شناخت کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ امریکی فوج کی جانب سے بھی تاحال اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
حملے کے بعد ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے انتظام سے متعلق پڑوسی ممالک کو آگاہ کرنے کا منصوبہ بھی ملتوی کر دیا گیا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، جس کے باعث یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی کا اثر عالمی توانائی بازار پر پڑ سکتا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں پہلے ہی شدید کشیدگی جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی جانب سے بحیرۂ احمر میں آبنائے باب المندب کے قریب ایک جزیرے پر قبضے کی اطلاعات کے بعد بھی تجارتی جہازوں کی سلامتی پر تشویش ظاہر کی گئی تھی۔
دوسری جانب ایران اور امریکہ کے درمیان بھی کشیدگی برقرار ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے دوران ایرانی پرچم والے بعض بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ ایران کی جانب سے امریکی جنگی جہازوں پر بیلسٹک میزائل داغے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ ایرانی عوام کو خوف زدہ کرکے یا دباؤ ڈال کر مجبور نہیں کیا جا سکتا اور ایران ہتھیار نہیں ڈالے گا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے جب ایک رپورٹر نے سوال کیا کہ آیا امریکہ نے اتوار کی صبح آبنائے ہرمز میں ایرانی مال بردار جہاز پر حملہ کیا ہے تو انہوں نے اس معاملے پر کوئی واضح جواب دینے سے گریز کیا اور کہا، ’’میں اس حوالے سے کچھ کہنا نہیں چاہتا۔‘‘ اس کے بعد ٹرمپ واشنگٹن واپسی کے لیے ایئر فورس ون میں سوار ہو گئے۔
آبنائے ہرمز میں تازہ واقعے نے ایک بار پھر اس اہم بحری راستے کی سلامتی کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔