مہاراشٹر، دہلی، آندھرا پردیش، ہریانہ، تلنگانہ اور ناگالینڈ میں انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے شیڈول میں تبدیلی، حتمی ووٹر لسٹیں 30 نومبر سے 22 دسمبر کے درمیان ہوں گی جاری
نئی دہلی: الیکشن کمیشن آف انڈیا نے مہاراشٹر، آندھرا پردیش، ہریانہ، تلنگانہ، ناگالینڈ اور مرکز کے زیر انتظام علاقے دہلی میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (اسپیشل انٹینسیو ریویژن، ایس آئی آر) کے شیڈول میں توسیع کردی ہے۔ کمیشن نے متعلقہ ریاستوں کے چیف الیکٹورل آفیسرز کی درخواستوں پر غور کرتے ہوئے جمعرات کو یہ فیصلہ کیا اور الگ الگ مراسلے جاری کرکے نئی تاریخوں کا اعلان کیا۔
الیکشن کمیشن کے نئے شیڈول کے مطابق مہاراشٹر میں ووٹر لسٹ میں نام شامل کرانے، نام حذف کرانے یا دیگر تبدیلیوں کے لیے دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کی آخری تاریخ 26 اکتوبر سے بڑھا کر 13 نومبر کردی گئی ہے۔ نوٹس جاری کرنے اور موصولہ دعووں و اعتراضات کے تصفیے کا عمل اب 25 نومبر تک جاری رہے گا، جب کہ حتمی انتخابی فہرست 30 نومبر کو شائع کی جائے گی۔ اس سے قبل انتخابی فہرست کا مسودہ 31 اگست کو جاری کیا گیا تھا اور دعووں کے تصفیے کے لیے 10 نومبر آخری تاریخ مقرر تھی۔
قومی دارالحکومت دہلی میں بھی ایس آئی آر کی مدت میں توسیع کی گئی ہے۔ اب ووٹر لسٹ سے متعلق دعوے اور اعتراضات 30 اکتوبر کے بجائے 25 نومبر تک داخل کیے جاسکیں گے۔ ان کے تصفیے کی آخری تاریخ بھی 30 نومبر سے بڑھا کر 15 دسمبر کردی گئی ہے، جب کہ دہلی کی حتمی انتخابی فہرست 22 دسمبر کو شائع کی جائے گی۔
آندھرا پردیش اور ہریانہ میں نوٹس جاری کرنے اور دعووں و اعتراضات کے تصفیے کا عمل 20 نومبر تک مکمل کیا جائے گا۔ ناگالینڈ میں اس کے لیے 25 نومبر اور تلنگانہ میں 26 نومبر کی نئی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ ان چاروں ریاستوں میں حتمی انتخابی فہرستیں 30 نومبر کو جاری کی جائیں گی۔
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے 14 مئی کو انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی کے تیسرے مرحلے کا اعلان کیا تھا، جس میں 16 ریاستوں اور تین مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو شامل کیا گیا تھا۔ اس مرحلے کے تحت مختلف علاقوں میں ایس آئی آر کا عمل جاری ہے اور انتظامی و دیگر وجوہات کی بنیاد پر اس کے شیڈول میں پہلے بھی متعدد مرتبہ تبدیلی کی جاچکی ہے۔
الیکشن کمیشن کے تازہ فیصلے سے مذکورہ چھ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے دہلی میں ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کے لیے اضافی وقت مل گیا ہے۔