لوک سبھا سے منظوری کے بعد ’اینٹی پیپر لیک بل‘، جسے باضابطہ طور پر ’پبلک اگزامنیشنز (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل، 2026‘ کہا گیا ہے، جمعرات کو راجیہ سبھا میں پیش کر دیا گیا۔ وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ایوانِ بالا میں بل پیش کیا۔ بل پر تفصیلی بحث کے لیے سات گھنٹے کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔
بحث کے دوران اپوزیشن کی جانب سے قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے اور کانگریس کے سینئر رہنما مکل واسنک سمیت مختلف جماعتوں کے اراکین اپنی آرا پیش کریں گے۔ بل پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ملک میں پیپر لیک کے سابقہ واقعات کا حوالہ دیا اور کانگریس کی سابقہ حکومتوں کے ساتھ ساتھ اپوزیشن جماعتوں کے زیر اقتدار ریاستوں میں پیش آنے والے امتحانی پرچہ افشا کے معاملات کا بھی ذکر کیا۔
وزیر کے بیان پر اپوزیشن اراکین نے سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو سیاسی الزام تراشی کے بجائے بل کی دفعات، اس کے نفاذ اور امتحانی نظام میں شفافیت یقینی بنانے کے اقدامات پر توجہ دینی چاہیے۔ اس دوران ایوان میں حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان لفظی نوک جھونک بھی دیکھنے کو ملی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس ترمیمی بل کا مقصد سرکاری اور عوامی امتحانات میں پیپر لیک، منظم نقل، جعل سازی اور دیگر غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام کے لیے موجود قانونی نظام کو مزید سخت اور مؤثر بنانا ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے بل کی بعض شقوں، تحقیقات کے طریقۂ کار اور طلبہ کے مفادات کے تحفظ سے متعلق سوالات اٹھائے جانے کا امکان ہے۔