ظہران میں آرامکو کے انتظامی احاطے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنائے جانے کی اطلاع، حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے پہلے ہی سخت جوابی کارروائی کی وارننگ دی تھی۔
سعودی عرب اور حوثی باغیوں کے درمیان جاری کشیدگی نے خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ منگل کی دیر رات سعودی عرب کے مشرقی شہر ظہران میں دنیا کی بڑی تیل کمپنیوں میں شمار ہونے والی سعودی آرامکو کے انتظامی احاطے پر بیلسٹک میزائل حملے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق، وزارت توانائی کے ایک افسر نے بتایا کہ حملے کے بعد عمارت میں آگ لگ گئی، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔
خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق، آرامکو سے وابستہ ذرائع نے بتایا کہ میزائل حملے میں دفتر کی عمارت کی بالائی تین منزلوں کو نقصان پہنچا۔ اس معاملے سے واقف دیگر ذرائع نے بھی عمارت میں آگ لگنے کی تصدیق کی۔ تاہم، حملے کی ذمہ داری اور اس سے ہونے والے نقصان کی تمام تفصیلات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
آرامکو سعودی عرب کی معیشت میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ کمپنی کا وسیع نیٹ ورک تیل کی پیداوار، پائپ لائنوں، ریفائنریوں اور تیل کی برآمدات سے وابستہ ہے۔ ایسے میں اس کے انتظامی احاطے پر حملے کی خبر نے سعودی عرب کے توانائی کے شعبے اور خطے کی سلامتی سے متعلق خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
سعودی قیادت والے اتحاد کے مطابق، ظہران کے اوپر ایک میزائل کو روک لیا گیا، لیکن اس کے ملبے کے رہائشی علاقے میں گرنے کی اطلاع ہے۔ حکام نے ریاض اور سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں بھی میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے اور تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم، ان واقعات میں ہونے والے نقصان کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، گزشتہ ایک ہفتے کے دوران سعودی عرب کے اہم مقامات کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ان میں ریاض کا ہوائی اڈہ بھی شامل بتایا گیا ہے۔ خبر میں ہفتے کے روز ہوائی اڈے پر بیلسٹک میزائل حملے کے نتیجے میں 13 افراد کی ہلاکت کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ مسلسل حملوں کے باعث فضائی سفر بھی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ان واقعات کے درمیان سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کی صدارت میں کابینہ کا اجلاس بھی ہوا، جس میں حوثیوں کی جانب سے بار بار حملے کیے جانے پر سنگین نتائج کی وارننگ دی گئی۔ سعودی عرب میں توانائی کے شعبے سے متعلق ایک اہم اجلاس کے دوران پیش آنے والے ان واقعات نے صورت حال کی حساسیت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
ظہران میں آرامکو کے احاطے پر حملے سے قبل حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے یمن کی راجدھانی صنعا پر سعودی قیادت والے اتحاد کے حملوں کے جواب میں ’سخت اور دردناک‘ کارروائی کرنے کی دھمکی دی تھی۔ ان کے بیان کے مطابق، ممکنہ اہداف میں ظہران میں آرامکو کا صدر دفتر اور ریاض میں واقع ایک تیل کی ریفائنری شامل تھے۔ حوثیوں نے سعودی عرب میں تیل کے شعبے سے وابستہ ملازمین کو بھی ان مقامات سے دور رہنے کی تنبیہ کی تھی جنہیں وہ ممکنہ ہدف قرار دے رہے تھے۔
دوسری جانب، حوثیوں نے الزام لگایا کہ سعودی قیادت والا اتحاد صنعا پر حملے کر رہا ہے۔ اتحاد نے بھی یمن کی راجدھانی کے مضافات میں واقع ایندھن کے ایک ذخیرے کے قریب شہریوں کو جانے سے گریز کرنے کی ہدایت دی۔ حوثیوں کے زیر انتظام ٹیلی ویژن چینل ’المسیرہ‘ کے مطابق، اتحاد نے یمن پٹرولیم کمپنی کے ’صباح مرکزی اسٹیشن‘ کو نشانہ بنایا۔ یہ ایندھن کا ذخیرہ صنعا کے مضافات میں واقع ہے۔
سعودی قیادت والے اتحاد نے اس اسٹیشن اور دیگر مقامات پر حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کارروائیوں کا مقصد حوثیوں کی ان صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے جن کے ذریعے وہ سعودی عرب، یمن اور بین الاقوامی سمندری راستوں کے لیے خطرہ پیدا کر سکتے ہیں۔
صنعا میں حملوں کے بعد حوثیوں کی جوابی کارروائی کی دھمکی اور ظہران میں آرامکو کے احاطے پر میزائل حملے کی اطلاعات نے خطے میں تصادم کے مزید پھیلنے کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ اگر توانائی کے اہم مراکز اور تیل کی تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو اس کے اثرات سعودی عرب کی معیشت، تیل کی عالمی منڈی اور خطے میں سلامتی کی صورت حال پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ تاہم، ان ممکنہ اثرات کا انحصار حملوں کی شدت، توانائی کی تنصیبات کو پہنچنے والے حقیقی نقصان اور آئندہ کی صورت حال پر ہوگا۔