مشرقی صوبے میں ڈرون بھی مار گرایا گیا؛ حوثی باغیوں نے مدینہ منورہ پر حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی
سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے مقدس شہر مدینہ منورہ کے اوپر ایک کروز میزائل کو روک کر تباہ کر دیا۔ اتحاد کے مطابق، اسی روز ملک کے مشرقی صوبے میں ایک ڈرون حملے کو بھی ناکام بنایا گیا۔ تاہم، مدینہ منورہ پر میزائل حملے کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا، اس بارے میں اتحاد نے کسی فریق کا نام نہیں لیا۔
خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق، حوثی باغیوں نے مدینہ منورہ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ حوثیوں کے فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے بھی اس حملے میں اپنے گروہ کے ملوث ہونے کی تردید کی۔ اس سے قبل حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے مقدس شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے ہوائی اڈوں کو نشانہ نہ بنانے کا وعدہ کیا تھا۔
مدینہ منورہ اسلام کا دوسرا مقدس ترین شہر ہے، جہاں رسول اللہ حضرت محمد ﷺ نے ہجرت کے بعد اسلامی معاشرے کی بنیاد رکھی۔ مکہ مکرمہ اسلام کا مقدس ترین شہر اور رسول اللہ ﷺ کی جائے پیدائش ہے۔
رپورٹ کے مطابق، حملوں کے خدشات کے باعث سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر سرگرمیاں معطل کر دی گئیں، جبکہ جدہ ہوائی اڈے پر بھی متعدد پروازیں منسوخ ہوئیں یا تاخیر کا شکار ہوئیں۔ فلائٹ ٹریکنگ پلیٹ فارم فلائٹ ریڈار 24 کے حوالے سے یہ اطلاع دی گئی ہے۔
سعودی عرب نے جمعرات کو اپنے مشرقی صوبے کے اوپر ایک ڈرون کو تباہ کرنے کی بھی اطلاع دی۔ یہ علاقہ ملک کی تیل کی پیداوار کا ایک اہم مرکز ہے۔
سعودی عرب اور حوثی باغیوں کے درمیان کشیدگی میں حالیہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب گزشتہ ماہ حوثیوں نے باب المندب کے قریب اہم علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ باب المندب بحیرہ احمر کے جنوبی سرے پر واقع ایک اہم سمندری گزرگاہ ہے، جہاں سے خلیجی ممالک اور عالمی منڈیوں کے درمیان تیل اور دیگر اشیا کی ترسیل ہوتی ہے۔
سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتا ہے اور ان علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تازہ واقعات نے خطے میں سلامتی کی صورتِ حال اور اہم سمندری راستوں سے تجارت کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ تاہم، مدینہ منورہ پر میزائل حملے کی ذمہ داری تاحال کسی فریق نے قبول نہیں کی ہے۔