ضمانت پر جیل سے باہر آتے ہی ای ڈی نے اعظم خان کو منی لانڈرنگ کیس میں دوبارہ گرفتار کر لیا؛ سابق وزیر بولے، ’ایک مسلمان نے طلبہ کے لیے یونیورسٹی اور اسکول بنا دیا، یہی غلطی ہے‘
لکھنؤ/رامپور: سماج وادی پارٹی کے سینئر رہنما اور اتر پردیش کے سابق کابینی وزیر اعظم خان کی مشکلات کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ دوہرے پین کارڈ کیس میں ضمانت پر رامپور جیل سے رہائی کے فوراً بعد انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے انہیں منی لانڈرنگ کے ایک معاملے میں دوبارہ گرفتار کر لیا۔ اس گرفتاری پر اعظم خان نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مسلمان ہونے کی سزا دی جا رہی ہے، جب کہ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے بھی بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اطلاعات کے مطابق، سنیچر کے روز اعظم خان کو رامپور ڈسٹرکٹ جیل سے رہائی ملنے کے فوراً بعد ای ڈی کے لکھنؤ زون کے حکام نے گرفتار کر لیا۔ اس موقع پر مرکزی نیم فوجی دستوں اور اتر پردیش پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔ 78 سالہ اعظم خان کو اتوار کے روز غازی آباد میں منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون (پی ایم ایل اے) سے متعلق خصوصی عدالت میں پیش کیا جانا تھا، جہاں ای ڈی ان سے پوچھ گچھ کے لیے ریمانڈ کی درخواست کرنے والی تھی۔
جیل سے باہر آنے کے بعد نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے اعظم خان نے اپنی گرفتاری پر مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، ’’کہنے کو کیا ہے… یہ مسلمان ہونے کی سزا ہے۔ غلطی صرف اتنی ہے کہ ایک مسلمان نے طلبہ کے لیے یونیورسٹی اور اسکول بنا دیا۔‘‘ ان کے اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
دوسری جانب سماج وادی پارٹی کے سربراہ اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے بھی اعظم خان کی دوبارہ گرفتاری پر بی جے پی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ لکھنؤ ایئرپورٹ کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی سے انصاف کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔ اعظم خان کے اس بیان پر کہ انہیں مسلمان ہونے کی سزا دی جا رہی ہے، اکھلیش یادو نے کہا کہ انہوں نے جو کچھ کہا ہے، وہ سچ ہے۔
واضح رہے کہ اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ اعظم خان کو گزشتہ جمعرات کو الہ آباد ہائی کورٹ سے دوہرے پین کارڈ کیس میں بڑی راحت ملی تھی۔ عدالت نے اس معاملے میں دونوں کی سزاؤں کو معطل کر دیا تھا، جس کے بعد اعظم خان کی رامپور جیل سے رہائی ممکن ہوئی۔ تاہم، رہائی کے فوراً بعد ای ڈی کی کارروائی نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا۔
ای ڈی نے اتر پردیش پولیس کی جانب سے اعظم خان اور ان سے متعلق افراد کے خلاف درج 58 ایف آئی آرز کی بنیاد پر منی لانڈرنگ کا مقدمہ قائم کیا ہے۔ ایجنسی نے بدھ کے روز دعویٰ کیا تھا کہ اس نے رامپور میں واقع اعظم خان کی محمد علی جوہر یونیورسٹی کی زمین اور عمارتوں کو قرق کر لیا ہے۔ ای ڈی کے مطابق، ان جائیدادوں کی موجودہ بازاری قیمت تقریباً 1,170 کروڑ روپے ہے۔
ایجنسی کا الزام ہے کہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے لیے مختص سرکاری فنڈز کو مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے موڑ کر محمد علی جوہر یونیورسٹی کی تعمیر میں استعمال کیا گیا۔ ای ڈی کے مطابق، اعظم خان نے ریاستی حکومت میں شہری ترقی کے وزیر اور اتر پردیش جل نگم کے چیئرمین کی حیثیت سے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے ان مبینہ بے ضابطگیوں کو ممکن بنایا۔
ادھر رامپور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے رواں سال جولائی میں یونیورسٹی کیمپس میں قائم 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کا حکم بھی جاری کیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف یونیورسٹی انتظامیہ نے اپیل دائر کی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اکھلیش یادو کچھ عرصہ قبل جیل میں اعظم خان سے ملاقات بھی کر چکے ہیں۔ وہ مسلسل بی جے پی حکومت پر اعظم خان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے اور ان کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرانے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔
اعظم خان کی رہائی کے چند لمحوں بعد دوبارہ گرفتاری اور اس پر اکھلیش یادو کے سخت ردعمل نے اتر پردیش کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل پیدا کر دی ہے۔ جہاں سماج وادی پارٹی اسے سیاسی انتقام قرار دے رہی ہے، وہیں ای ڈی کی جانب سے درج مقدمے اور یونیورسٹی کی جائیدادوں کی قرقی کے معاملے نے اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔