ایس آئی آر پر پابندی، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور بیلٹ پیپر سے انتخابات کرانے کا مطالبہ؛ ممتا بنرجی، اکھلیش یادو، ملکارجن کھڑگے سمیت اپوزیشن کے کئی بڑے رہنما ریلی میں شریک
نئی دہلی: ملک میں مبینہ ووٹ چوری اور انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد ’انڈیا‘ نے اتوار کو دہلی کے تاریخی رام لیلا میدان میں ایک بڑی ریلی کا اہتمام کیا ہے۔ ’ووٹ بچاؤ، ملک بچاؤ‘ کے نعرے کے تحت منعقد ہونے والی اس ریلی میں کانگریس رہنما راہل گاندھی، پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے، ممتا بنرجی، اکھلیش یادو اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔ ریلی کے ذریعے اپوزیشن جماعتیں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر)، الیکشن کمیشن کے کردار اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے ذریعے انتخابات کرانے کے طریقہ کار پر اپنے اعتراضات اٹھا رہی ہیں۔
ریلی سے قبل لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے دہلی کے عوام سے اس میں بڑی تعداد میں شرکت کی اپیل کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا، ’’دہلی، تیار ہو جاؤ! ووٹ بچاؤ، ملک بچاؤ۔ کناٹ پلیس آئیے، ساتھ چلتے ہیں، یا پھر سیدھے رام لیلا میدان میں ملتے ہیں، لیکن آنا ضرور ہے۔ آج دوپہر 12 بجے۔‘‘
ریلی سے پہلے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی رہائش گاہ پر انڈیا اتحاد کے رہنماؤں کی آمد کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔ اس دوران سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے اتر پردیش میں ووٹوں کی تعداد میں مبینہ کمی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے بی جے پی حکومت پر سخت تنقید کی۔
اکھلیش یادو نے کہا کہ ناانصافی کی تمام حدیں پار ہو چکی ہیں۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ نے خود اعتراف کیا ہے کہ ووٹوں کی تعداد میں ایک کروڑ 27 لاکھ کی کمی ہوئی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس کمی کا خیال انہیں اس وقت کیوں آیا، جب وہ ایم ایل سی کا انتخاب ہار گئے؟ اکھلیش یادو نے بی جے پی کے ’ڈبل انجن حکومت‘ کے نعرے پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ حکومت ’ڈبل زیرو‘ ہو گئی ہے۔ انہوں نے ووٹوں کی گنتی اور مبینہ طور پر غائب ووٹوں کے اعداد و شمار پر بھی سوالات اٹھائے۔
شیوسینا (یو بی ٹی) کے راجیہ سبھا رکن سنجے راؤت نے بھی ریلی میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت کی امید ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو ریلی میں آنے سے روکنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، لیکن جتنی زیادہ رکاوٹیں کھڑی کی جائیں گی، اتنی ہی بڑی تعداد میں لوگ پہنچیں گے۔ ان کے مطابق، رام لیلا میدان میں ہونے والا یہ مظاہرہ کسی ایک سیاسی جماعت کی طاقت نہیں، بلکہ ملک کے عوام کی آواز ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوام موجودہ حکومت کی تبدیلی چاہتے ہیں۔
تلنگانہ کے وزیر اور سابق کرکٹر محمد اظہرالدین نے بھی ووٹ چوری کے الزامات کو سنگین قومی مسئلہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار استعفیٰ نہیں دیتے اور ووٹوں کی جانچ نہیں ہوتی، اس وقت تک یہ معاملہ اٹھایا جاتا رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مغربی بنگال، مہاراشٹر اور بہار کے انتخابات میں سامنے آنے والے حالات ووٹوں کی مبینہ چوری کی جانب اشارہ کرتے ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جو ملک کے ہر شہری کو متاثر کرتا ہے۔
راجستھان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ٹیکا رام جولی نے بھی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ آئینی عہدے پر فائز شخص کو غیر جانب دارانہ طریقے سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں، نہ کہ کسی سیاسی جماعت کے ایجنٹ کے طور پر کام کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق، الیکشن کمیشن کی بنیادی ذمہ داری آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانا ہے، تاکہ عوام جس امیدوار کو منتخب کرنا چاہیں، وہی ان کا نمائندہ بنے۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اکھلیش پرساد سنگھ نے ریلی کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اور الیکشن کمیشن کے خلاف عوام میں ناراضگی بڑھ رہی ہے اور اس ریلی میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوں گے کہ رام لیلا میدان بھی چھوٹا پڑ جائے گا۔
ریلی میں شرکت کے لیے طلبہ تنظیم اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) کے رہنماؤں اور کارکنوں نے بھی سرجیت بھون سے رام لیلا میدان تک مارچ نکالا۔ اس دوران انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف نعرے لگائے۔
واضح رہے کہ انڈیا اتحاد نے اس احتجاج کے لیے تین اہم مطالبات پیش کیے ہیں۔ پہلا مطالبہ یہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں اور انہیں قانونی تحفظ فراہم کرنے والے 2023 کے قانون کو منسوخ کیا جائے۔ دوسرا مطالبہ ہے کہ ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) پر فوری طور پر روک لگائی جائے اور فہرست سے حذف کیے گئے ووٹروں کے نام بحال کیے جائیں۔ تیسرا مطالبہ ہے کہ مستقبل میں تمام انتخابات ای وی ایم کے بجائے بیلٹ پیپر کے ذریعے کرائے جائیں۔
ریلی کے پیش نظر دہلی پولیس نے سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں۔ وسطی دہلی کے ڈی سی پی روہت راج بیر کے مطابق، پورے علاقے میں 200 سے 250 سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں، جب کہ ریلی کے مقام اور اطراف میں پولیس اہلکاروں کے ساتھ بڑی تعداد میں رضاکار بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، سیکورٹی انتظامات کے تحت چار ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں اور انتخابی عمل کی شفافیت پر اٹھنے والے سوالات محض کسی ایک ریاست یا سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں، بلکہ ملک کے جمہوری نظام سے جڑا معاملہ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ رام لیلا میدان سے اٹھنے والی اپوزیشن کی یہ آواز انتخابی اصلاحات اور الیکشن کمیشن کے حوالے سے جاری سیاسی بحث پر کتنا اثر ڈالتی ہے۔