انڈیا بلاک کے رہنماؤں کی ملاقات میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر بھی تبادلۂ خیال متوقع، ہائی ٹی کے بعد مشترکہ احتجاج یا پریس کانفرنس کا امکان
نئی دہلی: لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی منگل کے روز انڈیا بلاک کے اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے اپنی رہائش گاہ پر ’ہائی ٹی‘ کی میزبانی کریں گے۔ ذرائع کے مطابق، اس ملاقات میں مبینہ ’ووٹ چوری‘ اور انتخابی بے ضابطگیوں کے خلاف اپوزیشن کی مشترکہ حکمتِ عملی پر غور کیا جائے گا۔ اس دوران چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کو مزید مؤثر انداز میں اٹھانے پر بھی تبادلۂ خیال متوقع ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی کی رہائش گاہ، 5 سنہری باغ روڈ پر ہونے والی اس ملاقات کے بعد اپوزیشن جماعتیں مشترکہ احتجاج یا پریس کانفرنس بھی کر سکتی ہیں۔ تاہم، آئندہ کے لائحۂ عمل سے متعلق حتمی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں اور ووٹ چوری کے الزامات کو لے کر اپوزیشن اور الیکشن کمیشن کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ پیر کے روز انڈیا بلاک کے کئی سرکردہ رہنماؤں نے سماجی کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے ساتھ دہلی میں ’جمہوریت مارچ‘ نکالا اور اس معاملے کو سپریم کورٹ تک پہنچایا۔
مارچ میں راہل گاندھی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو، ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی، سی پی آئی کے ڈی راجہ، سی پی آئی (ایم) کے رہنما ایم اے بیبی، آر جے ڈی کے تیجسوی یادو اور این سی پی (ایس پی) کی رہنما سپریا سولے سمیت کئی اہم اپوزیشن رہنماؤں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے انتخابی عمل میں شفافیت اور جواب دہی کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے اعتراضات درج کرائے۔
مظاہرین نے بھگوان داس روڈ پر لگائی گئی پہلی رکاوٹ عبور کر لی، لیکن دوسری رکاوٹ کے مقام پر انہیں روک دیا گیا۔ اس کے بعد اپوزیشن کے سرکردہ رہنما اپنی درخواست دائر کرنے کے لیے سپریم کورٹ پہنچے۔
درخواست میں الیکشن کمیشن آف انڈیا، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور دیگر الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کو فریق بنایا گیا ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے پر قانونی کارروائی کے ساتھ سیاسی دباؤ بڑھانے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔
یہ پیش رفت اس کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے جب چیف جسٹس آف انڈیا نے اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے اس معاملے پر ملاقات کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ رپورٹ کے مطابق، چیف جسٹس نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔
راہل گاندھی کی جانب سے منعقد کی جانے والی آج کی ہائی ٹی ملاقات کو اسی سیاسی اور قانونی پس منظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس میں یہ طے ہونے کی توقع ہے کہ انڈیا بلاک ووٹ چوری کے الزامات، انتخابی شفافیت اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے کو آگے بڑھانے کے لیے مشترکہ طور پر کیا اقدامات کرے گا۔