دشینت کمار گوتم کو سکم کا گورنر مقرر کیے جانے کے خلاف احتجاج؛ اہل خانہ کا مطالبہ ہے کہ مبینہ ’وی آئی پی‘ کے کردار کی جانچ مکمل ہونے تک تقرری روکی جائے
نئی دہلی: اتراکھنڈ کے انکیتا بھنڈاری قتل کیس میں انصاف اور مبینہ ’وی آئی پی‘ کے کردار کی تحقیقات کے مطالبے کو لے کر دہلی کے انڈیا گیٹ پر احتجاج کرنے والے مقتولہ کے والدین کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ تاہم، جمعرات کی صبح تقریباً پانچ بجے انہیں رہا کر دیا گیا۔ اس دوران لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بھی انکیتا کے والدین سے ملاقات کی۔ بعد ازاں کانگریس کے کئی سینئر رہنماؤں کو بھی حراست میں لیا گیا، جنہیں بعد میں رہا کر دیا گیا۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، حراست میں لیے گئے کانگریسی رہنماؤں میں پارٹی کے میڈیا اور پبلسٹی ڈپارٹمنٹ کے سربراہ پون کھیڑا، سوشل میڈیا ڈپارٹمنٹ کی سربراہ سپریا شرینیت اور انڈین یوتھ کانگریس کے صدر ادے بھانو چب شامل ہیں۔ یہ احتجاج بی جے پی رہنما دشینت کمار گوتم کو سکم کا گورنر مقرر کیے جانے کے خلاف کیا جا رہا تھا۔
گوتم کی تقرری پر اعتراض، سی بی آئی جانچ مکمل ہونے تک روکنے کا مطالبہ
انکیتا بھنڈاری کے والدین کا مطالبہ ہے کہ دشینت کمار گوتم کی گورنر کے عہدے پر تقرری اس وقت تک روک دی جائے، جب تک قتل کیس میں جاری سی بی آئی تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں۔ اہل خانہ اور سماجی کارکنوں کی جانب سے اس معاملے میں ایک مبینہ ’وی آئی پی‘ کے کردار کی تحقیقات کا مطالبہ بھی مسلسل کیا جا رہا ہے۔
دشینت کمار گوتم کا نام انکیتا کے اہل خانہ کی جانب سے اس مبینہ وی آئی پی کے حوالے سے لیا جاتا رہا ہے، جس کے کردار کی تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ انکیتا کے والد نے الزام عائد کیا ہے کہ گوتم ہی وہ وی آئی پی تھے جن کا ان کی بیٹی کے قتل سے تعلق تھا۔ تاہم، گوتم کے خلاف یہ الزامات ثابت نہیں ہوئے ہیں۔ گوتم ان الزامات کی تردید کر چکے ہیں اور انہوں نے ہتکِ عزت کی قانونی کارروائی بھی شروع کی ہے۔
دوسری جانب، کانگریس نے گوتم کی گورنر کے عہدے پر تقرری پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اس اقدام کا مقصد انہیں قانونی کارروائی سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ پارٹی نے آئینی تحفظات کا حوالہ دیتے ہوئے بھی اعتراض کیا ہے۔ تاہم، تقرری کے پیچھے کسی مخصوص مقصد کے ہونے کا دعویٰ کانگریس کا الزام ہے۔
کیا ہے انکیتا بھنڈاری قتل کیس؟
انکیتا بھنڈاری اتراکھنڈ کے ریشیکیش میں واقع ونانترا ریزورٹ میں ریسیپشنسٹ کے طور پر کام کرتی تھیں۔ 19 سالہ انکیتا کو 18 ستمبر 2022 کو قتل کر دیا گیا تھا، جبکہ چار روز بعد ان کی لاش چیلا نہر سے برآمد ہوئی تھی۔ اس واقعے نے ریاست میں شدید غم و غصے کو جنم دیا تھا اور معاملے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ گیا تھا۔
اس کیس میں ریزورٹ کے مالک پلکت آریہ، جو بی جے پی کے سابق رہنما ونود آریہ کے بیٹے ہیں، اور ان کے دو ساتھیوں کو عدالت نے مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
تاہم، اس کیس میں ایک مبینہ ’وی آئی پی‘ کے کردار کا سوال بھی مسلسل اٹھتا رہا ہے۔ انکیتا کے اہل خانہ اور سماجی کارکنوں کا مطالبہ ہے کہ اس پہلو کی بھی مکمل تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی دوسرے شخص کا کردار سامنے آتا ہے تو اس کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے۔
دشینت کمار گوتم، جو بی جے پی کے سابق قومی جنرل سکریٹری رہ چکے ہیں اور اتراکھنڈ میں پارٹی کے انچارج کی ذمہ داری بھی نبھا چکے ہیں، کو گزشتہ پیر سکم کا گورنر مقرر کیا گیا تھا۔ ان کی تقرری کے بعد انکیتا کے اہل خانہ کے احتجاج نے ایک بار پھر اس قتل کیس میں مبینہ وی آئی پی کے کردار کی تحقیقات اور انصاف کے مطالبے کو نمایاں کر دیا ہے۔