نئی دہلی میں جاری احتجاج کی حمایت میں طلبہ اور سماجی کارکنوں کا مظاہرہ، جمہوری حقوق اور حقِ رائے دہی کے تحفظ کے لیے آواز بلند
لندن: نئی دہلی میں جاری احتجاجی تحریک سے اظہارِ یکجہتی کے لیے برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ جنوبی ایشیائی تارکینِ وطن کی تنظیموں اور طلبہ گروپوں کے زیرِ اہتمام ہونے والے اس مظاہرے میں شرکاء نے بھارت میں جمہوری حقوق، حقِ رائے دہی اور پُرامن احتجاج کے حق کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل کو منسوخ کرنے کی بھی اپیل کی۔
رپورٹ کے مطابق، منگل کی شام منعقدہ اس احتجاج میں ساؤتھ ایشیا سالیڈیرٹی گروپ، کیمبرج ساؤتھ ایشین فورم اگینسٹ ہندوتوا، انڈین ورکرز ایسوسی ایشن اور ایس او اے ایس امبیڈکر سوسائٹی سمیت متعدد تنظیموں نے حصہ لیا۔ مظاہرین نے نئی دہلی میں جنتر منتر کے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے بھارتی حکومت اور انتخابی عمل سے متعلق اپنے اعتراضات کا اظہار کیا۔
مظاہرے کا بنیادی مقصد بھارت میں جاری احتجاجی تحریک کے مطالبات کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنا تھا۔ شرکاء نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں پر تشویش ظاہر کی اور مطالبہ کیا کہ انتخابی عمل کو شفاف، منصفانہ اور جواب دہ بنایا جائے۔
ساؤتھ ایشیا سالیڈیرٹی گروپ کی نمائندہ مکتی شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ محض کسی ایک اہلکار کی برطرفی تک محدود نہیں، بلکہ اس کا تعلق وسیع تر عوامی بیداری اور جمہوری حقوق کے تحفظ سے ہے۔ ان کے مطابق، برطانیہ میں مقیم افراد کے لیے بھی ان معاملات پر آواز اٹھانا ضروری ہے، کیونکہ ان کے خیال میں بھارت میں دائیں بازو کی سیاست کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
مظاہرے سے خطاب کرنے والے مختلف طلبہ رہنماؤں نے بھی برطانیہ میں مقیم بھارتی اور جنوبی ایشیائی برادری سے اپیل کی کہ وہ بھارت میں عوام کے جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے منظم انداز میں آواز بلند کریں۔
مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور کتبے اٹھا رکھے تھے، جن پر چیف الیکشن کمشنر کے استعفے اور انتخابی عمل میں اصلاحات کے مطالبات درج تھے۔ شرکاء نے بھارت میں مظاہرین، صحافیوں اور وکلا کے خلاف مبینہ ریاستی جبر، پولیس تشدد اور جنسی ہراسانی کے واقعات کی بھی مذمت کی۔
لندن کا یہ احتجاج برطانیہ کے دیگر شہروں میں جاری یکجہتی مہم کا حصہ تھا۔ اسی سلسلے میں اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) کے برطانوی چیپٹر نے کارڈف، لیڈز اور ایڈنبرا میں بھی احتجاجی اجتماعات منعقد کیے، جہاں نئی دہلی کی تحریک کی حمایت میں آواز بلند کی گئی۔
واضح رہے کہ بھارت میں اپوزیشن جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور دیگر سیاسی و سماجی گروپوں نے ایس آئی آر کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کرتے ہوئے احتجاج تیز کر رکھا ہے۔ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے ساتھ انتخابی نظام میں اصلاحات اور ووٹروں کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تاہم، ان الزامات اور مطالبات پر متعلقہ حکام کا مؤقف اس رپورٹ میں شامل نہیں ہے۔