حیدرآباد کے ملک پیٹ میں ایک ہی خاندان کے 10 ووٹ اینومریشن فارم تاخیر سے جمع کرانے پر فہرست سے خارج؛ برسوں سے ووٹ ڈالنے والے شہری بھی اپنی شہریت اور شناخت کے ثبوت پیش کرنے کے لیے دفاتر کے چکر کاٹنے پر مجبور
حیدرآباد: تلنگانہ میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی (SIR) کے دوران بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام حذف ہونے اور رجسٹریشن کی درخواستیں مسترد کیے جانے کے معاملات سامنے آ رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی اس مشق کے نتیجے میں جہاں تقریباً 43 لاکھ ووٹروں کے نام فہرست سے خارج کیے گئے ہیں، وہیں 1.65 لاکھ درخواستیں بھی مسترد ہو چکی ہیں۔ اس کارروائی نے عام شہریوں، خصوصاً ان لوگوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں جو کسی وجہ سے مقررہ وقت کے اندر اپنا اینومریشن فارم جمع نہیں کرا سکے۔
حیدرآباد کے مختلف علاقوں سے سامنے آنے والے واقعات نے انتخابی عمل میں فیلڈ سطح پر ہونے والی لاپرواہی اور طریقۂ کار کی پیچیدگیوں پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ملک پیٹ میں ایک ہی خاندان کے 10 ووٹ محض اس وجہ سے حذف کر دیے گئے کہ اہل خانہ اپنی والدہ کے انتقال کے بعد گاؤں چلے گئے تھے اور واپسی تک اینومریشن فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ گزر چکی تھی۔
ایسا ہی ایک معاملہ اولڈ رامنتھاپور سے سامنے آیا، جہاں ایک خاندان شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے اپنے آبائی گاؤں گیا ہوا تھا۔ واپس آنے پر انہیں معلوم ہوا کہ مقررہ وقت میں فارم جمع نہ ہونے کے باعث ان کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کر دیے گئے ہیں۔ شہر میں ایسے متعدد شہری موجود ہیں جو برسوں سے ووٹ ڈالتے آ رہے تھے، لیکن محض فارم جمع کرانے میں تاخیر کے باعث اب اپنے حقِ رائے دہی سے محروم ہو گئے ہیں۔
70 سالہ شہری کا سوال: کیا میرا کوئی وجود نہیں؟
بھولک پور کے رہنے والے 70 سالہ شیخ محبوب کا معاملہ اس صورت حال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت سے ووٹ ڈالتے آ رہے ہیں جب این ٹی راما راؤ نے اپنی سیاسی جماعت قائم کی تھی، لیکن ایس آئی آر کے دوران ان کا نام ووٹر لسٹ سے حذف کر دیا گیا۔
شیخ محبوب کے مطابق، وہ اپنا ووٹ بحال کرانے کے لیے مختلف سرکاری دفاتر کے چکر لگا رہے ہیں، لیکن ان کا ووٹر شناختی کارڈ منسوخ ہونے کے بعد حکام آدھار کارڈ کو بھی ثبوت کے طور پر قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ووٹ ڈالتے رہے ہیں تو اب انہیں اپنی شناخت ثابت کرنے کے لیے اس قدر پریشانی کیوں اٹھانی پڑ رہی ہے؟ ان کے بقول، ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اس ملک میں ان کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔
ایک خاندان کے 11 میں سے 10 ووٹ حذف
بھولک پور ہی کے سائی بابا کے خاندان کا معاملہ بھی قابلِ توجہ ہے۔ ان کے خاندان میں مجموعی طور پر 11 رجسٹرڈ ووٹرز تھے، لیکن ایس آئی آر کے بعد ووٹر لسٹ میں صرف ایک شخص کا نام باقی رہ گیا۔
رپورٹ کے مطابق، خاندان کے افراد اینومریشن فارم جمع کرانے کی تیاری کر رہے تھے کہ اسی دوران خاندان کی بزرگ خاتون، یعنی سائی بابا کی والدہ کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد اہل خانہ شہر سے اپنے آبائی علاقے سدی پیٹ چلے گئے۔ جب وہ واپس حیدرآباد پہنچے تو فارم جمع کرانے کی مقررہ آخری تاریخ گزر چکی تھی۔ نتیجتاً خاندان کے 10 افراد کے نام ووٹر لسٹ کے مسودے سے خارج کر دیے گئے۔
اسی طرح اولڈ رامنتھاپور کے راجو اور ان کی اہلیہ بھی سروے کے دوران اپنے گاؤں گئے ہوئے تھے۔ واپسی پر جب انہوں نے اینومریشن فارم جمع کرانا چاہا تو انہیں بتایا گیا کہ آخری تاریخ ختم ہو چکی ہے۔ اس طرح ان دونوں کے نام بھی ووٹر لسٹ سے حذف ہو گئے۔
ملک پیٹ میں ایک سرکاری ملازم کے خاندان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، جہاں 10 رجسٹرڈ ووٹ صرف اس لیے فہرست سے خارج کر دیے گئے کہ ذاتی وجوہات کی بنا پر خاندان کے افراد مقررہ وقت میں اینومریشن فارم واپس جمع نہیں کرا سکے تھے۔
ووٹ کی بحالی کے لیے غلط اقرار نامے پر دستخط کا مسئلہ
ووٹرس کے لیے سب سے بڑی پریشانی صرف ناموں کا حذف ہونا نہیں، بلکہ انہیں دوبارہ ووٹر کے طور پر رجسٹریشن کرانے کے لیے درپیش قانونی اور دستاویزی پیچیدگیاں بھی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، جن شہریوں کے نام ووٹر لسٹ سے حذف ہو گئے ہیں، انہیں دوبارہ اندراج کے لیے فارم-6 پُر کرنا، اپنی تصویر لگانا اور متعلقہ دستاویزات جمع کرانا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ انہیں اپنے والدین، دادا دادی یا دیگر آباؤ اجداد کے ووٹنگ ریکارڈ سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کرنی پڑتی ہیں۔
اس کے علاوہ الیکشن کمیشن کی جانب سے مقرر کردہ 12 اقسام کی شناختی دستاویزات میں سے کوئی ایک ثبوت کے طور پر پیش کرنا ہوتا ہے۔ لیکن اس پورے عمل میں ایک ایسا اقرار نامہ بھی شامل ہے جس پر دستخط کرنے سے متاثرہ شہریوں کو اعتراض ہے۔ اس میں درخواست گزار کو یہ اقرار کرنا ہوتا ہے کہ وہ پہلی مرتبہ ووٹر کے طور پر رجسٹریشن کروا رہا ہے۔
متاثرہ شہریوں کا سوال ہے کہ جو لوگ گزشتہ کئی دہائیوں سے باقاعدگی کے ساتھ ووٹ ڈالتے رہے ہیں، انہیں اب پہلی مرتبہ ووٹر بننے کا اقرار نامہ کیوں دینا چاہیے؟ ان کا کہنا ہے کہ فارم جمع نہ کرا پانے، خاندانی ریکارڈ کی عدم دستیابی یا بوتھ لیول افسران کی مبینہ لاپرواہی کے باعث اگر ان کے نام حذف ہوئے ہیں تو اس کی سزا انہیں غلط بیان پر دستخط کرنے کی صورت میں کیوں دی جائے؟
درخواستیں مسترد ہونے سے بڑھتی پریشانیاں
حکام ڈیکلریشن فارم کے ذریعے متاثرہ افراد کے دوبارہ اندراج اور مسائل کے حل کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن اقرار نامے کی شرط اور دستاویزی تقاضوں کے باعث یہ عمل بھی آسان ثابت نہیں ہو رہا۔ نتیجتاً بڑی تعداد میں شہریوں کی درخواستیں مسترد ہو رہی ہیں اور انہیں اپنے ووٹ کی بحالی کے لیے مسلسل سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پڑ رہے ہیں۔
تلنگانہ سے سامنے آنے والے یہ واقعات ایس آئی آر کے عمل میں شفافیت، عوامی سہولت اور اہل ووٹروں کے حقِ رائے دہی کے تحفظ سے متعلق اہم سوالات پیدا کرتے ہیں۔ انتخابی فہرستوں کی درستگی یقیناً ضروری ہے، لیکن اس عمل میں ایسے شہریوں کے نام حذف ہو جانا جو برسوں سے ووٹ ڈالتے آ رہے ہیں، اور پھر ان کی بحالی کے لیے پیچیدہ دستاویزی شرائط عائد ہونا، انتخابی نظام کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج ہے۔