سعودی ہوابازی اتھارٹی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 4 سعودی اور 8 غیر ملکی شہری شامل ہیں، حملے کے بعد ایئرپورٹ کا آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیا گیا
ریاض: سعودی عرب کی راجدھانی ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے میں 12 افراد ہلاک اور 309 زخمی ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک امریکی شہری سمیت مختلف ممالک کے باشندے شامل ہیں۔ سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے اتوار، 11 اکتوبر کو جاری بیان میں حملے اور جانی نقصان کی تفصیلات فراہم کیں۔ واقعے کے بعد حفاظتی اقدامات کے تحت ایئرپورٹ کی سرگرمیاں عارضی طور پر روک دی گئیں۔
چینی خبر رساں ایجنسی ’سنہوا‘ کی رپورٹ کے مطابق، سعودی ہوابازی اتھارٹی نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں چار سعودی شہری اور آٹھ غیر ملکی باشندے شامل ہیں۔ غیر ملکی ہلاک شدگان میں بنگلہ دیش کے دو شہری، جبکہ امریکہ، مصر، اردن، شام، فلسطین اور سوڈان کا ایک ایک شہری شامل ہے۔ حملے میں زخمی ہونے والے 309 افراد کو مختلف اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے، جن میں بعض کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ حکام نے نقصان کا جائزہ لینے اور حفاظتی جانچ مکمل ہونے تک ایئرپورٹ کا آپریشن معطل رکھنے کی اطلاع دی۔
اس حملے کے پس منظر میں سعودی عرب اور یمن کے حوثی گروپ کے درمیان جاری کشیدگی کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ حوثی حمایت یافتہ ’المسیرہ‘ ٹی وی کے مطابق، سعودی عرب نے یمن کے حوثی کنٹرول والے علاقوں میں فضائی اور میزائل حملوں کی نئی لہر شروع کی ہے۔ ان حملوں میں حوثیوں کے زیرِ کنٹرول دارالحکومت صنعا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے، آبنائے باب المندب کے آس پاس کے علاقوں اور شمالی یمن کے متعدد صوبوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاع ہے۔
دوسری جانب، یمن کی سرکاری فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف محاذوں پر کی گئی کارروائیوں میں 1150 سے زائد حوثی جنگجو مارے گئے یا لڑائی سے باہر ہو گئے۔ فوجی ذرائع کے مطابق، ان کارروائیوں میں 180 سے زیادہ فوجی اور رسدی گاڑیوں کو بھی تباہ یا نقصان پہنچایا گیا۔ تاہم، ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
یمن کے جنوب مغربی شہر تعز کے اطراف بھی لڑائی میں شدت آنے کی اطلاعات ہیں۔ فوجی ذرائع کے مطابق، حوثی جنگجوؤں کی پیش قدمی سے شہر کا دفاع کرنے والی سرکاری فوج پر دباؤ بڑھ گیا ہے، جبکہ جنوبی یمن کے سرکاری کنٹرول والے علاقوں سے رابطے کے لیے استعمال ہونے والی اہم سڑکیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ شہر کے جنوبی حصے میں شدید جھڑپیں جاری رہنے کی اطلاع ہے۔
سعودی فضائی حملوں کی حمایت سے یمنی حکومت نے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں کو دوبارہ اپنے قبضے میں لینے کے لیے فوجی کارروائی بھی شروع کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، آبنائے باب المندب کے اطراف میں لڑائی زیادہ شدید ہے۔ تاہم، مختلف فریقوں کی جانب سے جاری کیے جانے والے فوجی دعوؤں اور جانی نقصان کے اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
واضح رہے کہ یمن 2014 کے اواخر سے خانہ جنگی اور مسلح تنازعے کی زد میں ہے، جب حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعا سمیت ملک کے شمالی حصے کے بڑے علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت میں فوجی مداخلت کی تھی۔ یہ حکومت فی الحال جنوبی بندرگاہی شہر عدن سے کام کر رہی ہے۔
2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی کے بعد یمن میں بڑے پیمانے پر تشدد میں نمایاں کمی آئی تھی، تاہم تنازعہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ ریاض ایئرپورٹ پر حملے اور یمن میں تازہ فوجی کارروائیوں کی اطلاعات نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔