امریکی صدر نے نوبل امن انعام نہ ملنے پر ناروے کو تنقید کا نشانہ بنایا، بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ رکوانے اور کروڑوں جانیں بچانے کا بھی کیا دعویٰ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نوبل امن انعام نہ ملنے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ جن آٹھ جنگوں کو ختم کرانے میں انہوں نے کردار ادا کیا، ان میں سے ہر ایک کے بدلے انہیں آٹھ نوبل امن انعام ملنے چاہیے تھے۔ انہوں نے اس معاملے پر ناروے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ امریکہ اس اعزاز کا مستحق تھا۔ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے جوہری طاقت کے حامل بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ رکوا کر پانچ کروڑ افراد کی جانیں بچائی ہیں۔
جمعہ کو نیویارک کے شہر سیراکیوز میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کو نوبل امن انعام ملنا چاہیے تھا، کیونکہ وہ ملک کے صدر کی حیثیت سے امن کے لیے کام کر رہے تھے۔ انہوں نے انعام نہ دیے جانے کو ناروے اور ان لوگوں کے لیے باعثِ شرمندگی قرار دیا جنہوں نے یہ فیصلہ کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ نوبل امن انعام کو ایسے نظریہ سازوں نے بے وقعت کر دیا ہے جو ان کے بقول جمہوریت کے مخالف اور انسانی تہذیب کے دشمن ہیں۔
ٹرمپ نے ناروے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ یہ بات کبھی نہیں بھولے گا کہ اسے نوبل امن انعام سے محروم رکھا گیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں بار بار اس بات پر زور دیا کہ ان کے بقول، دنیا میں امن کے قیام کے لیے ان کی کوششوں کو مناسب طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔
نوبل امن انعام کے لیے منتخب ہونے والی شخصیت پر بھی ٹرمپ نے طنز کیا۔ انہوں نے انعام حاصل کرنے والی ناوی پلے کے بارے میں کہا کہ وہ اقوام متحدہ میں کام کرنے والی ایک لبرل خاتون ہیں، جن کا نام بھی انہوں نے پہلے نہیں سنا تھا۔ ٹرمپ نے ان کے انتخاب پر مبارک باد دیتے ہوئے ساتھ ہی یہ تبصرہ بھی کیا کہ ان کے بارے میں بہت کم لوگوں نے سنا ہوگا۔
اپنی تقریر کے دوران ٹرمپ نے ان تنازعات کا ذکر کیا جنہیں ختم کرانے کا وہ دعویٰ کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ مزید دو تنازعات، یعنی ایران سے متعلق کشیدگی اور روس-یوکرین جنگ، کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ان کی سفارتی کوششوں نے بڑی تعداد میں انسانی جانیں بچائی ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں نوبل امن انعام نہیں دیا گیا۔
ٹرمپ نے ایران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا اور اس طرح پورے مشرق وسطیٰ کو تباہی سے بچایا۔ ان کے مطابق، اگر ایسا نہ ہوتا تو اس کے اثرات یورپ اور ممکنہ طور پر امریکہ تک پہنچ سکتے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے تاریخ میں کسی بھی دوسرے شخص کے مقابلے میں زیادہ انسانی جانیں بچائی ہیں۔
واضح رہے کہ اب تک امریکہ کے چار صدور تھیوڈور روزویلٹ، ووڈرو ولسن، جمی کارٹر اور براک اوباما نوبل امن انعام حاصل کر چکے ہیں۔ براک اوباما کو 2009 میں صدارت کے پہلے ہی سال یہ اعزاز دیا گیا تھا۔ ٹرمپ ماضی میں بھی اوباما کو نوبل امن انعام دیے جانے پر تنقید کرتے رہے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ اوباما کو خاطر خواہ کام کیے بغیر یہ اعزاز دے دیا گیا تھا۔
ٹرمپ کے حالیہ بیان نے ایک بار پھر نوبل امن انعام کے انتخاب اور عالمی تنازعات کے حل میں ان کے کردار سے متعلق ان کے دعوؤں کو بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ تاہم، جنگیں ختم کرانے اور انسانی جانیں بچانے سے متعلق ان کے بیانات کو ان کے دعوؤں کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔