دہلی پولیس کے ذریعے جنتر منتر کا احتجاجی مقام کا درجہ ختم کیے جانے کے خلاف طلبہ اور نوجوانوں کی تنظیموں نے آواز بلند کی، احتجاج کے لیے تاریخی مقام کی بحالی کا مطالبہ
نئی دہلی: دہلی میں احتجاجی مظاہروں کے لیے معروف مقام جنتر منتر کا درجہ ختم کیے جانے کے خلاف طلبہ اور نوجوانوں کی تنظیموں نے احتجاج کیا۔ اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) اور ڈیموکریٹک یوتھ فیڈریشن آف انڈیا (ڈی وائی ایف آئی) نے فیروز شاہ روڈ سے جنتر منتر تک مشترکہ مارچ نکالا۔ مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے جنتر منتر کو دوبارہ احتجاج کے لیے مخصوص مقام قرار دینے کی اپیل کی۔
یہ احتجاج ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب دہلی پولیس نے جنتر منتر کو احتجاج اور ریلیوں کے لیے مخصوص مقامات کی فہرست سے ہٹا دیا ہے۔ سرکاری نوٹس کے مطابق، اب رام لیلا میدان، براری میدان اور سی بی ڈی میدان کو احتجاجی مظاہروں کے لیے متبادل مقامات کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔
اس فیصلے کا اعلان 12 اکتوبر کو کیا گیا تھا۔ اسی روز ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کے نمائندوں نے سنسد مارگ پولیس اسٹیشن میں درخواست جمع کرائی تھی، جس میں جنتر منتر پر پرامن احتجاج کے لیے تاریخ اور وقت مقرر کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔
دہلی میں احتجاجی مقامات کی تبدیلی کے لیے وزارت داخلہ نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی، جسے شہریوں کے احتجاج اور ریلی نکالنے کے حق کو برقرار رکھتے ہوئے متبادل مقامات کا جائزہ لینے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر جنتر منتر کو احتجاجی مقامات کی فہرست سے خارج کر دیا گیا۔ دہلی پولیس کمشنر انوراگ کمار کے مطابق، نئے نامزد مقامات پر احتجاج اور ریلیوں کے انعقاد کے لیے نظرثانی شدہ معیاری طریقۂ کار (ایس او پی) بھی جاری کیا جائے گا۔
دوسری جانب، انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں اور جمہوری اداروں کی خودمختاری سے متعلق خدشات کے پس منظر میں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد ’انڈیا‘ کے رہنماؤں اور ارکان پارلیمنٹ نے بھی الیکشن کمیشن کے خلاف اپنی تحریک تیز کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اپوزیشن کی جانب سے وسطی دہلی میں احتجاجی مارچ بھی کیا گیا۔
اسی دوران دہلی پولیس نے سی جے پی سے وابستہ تین کارکنوں کو گرفتار کیا۔ پولیس کا الزام ہے کہ ان کارکنوں نے عوامی امن میں خلل ڈالنے، قانون کی خلاف ورزی کرنے اور سوشل میڈیا کے ذریعے دوسروں کو ایسی سرگرمیوں پر اکسانے کی کوشش کی۔ گرفتار کارکنوں میں سورو داس اور آشوتوش رانکا کو پانچ روزہ عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا، جبکہ اجنکیا شندے کو چھ ماہ تک امن و امان برقرار رکھنے اور اچھے رویے کی پابندی سے متعلق حکم دیا گیا ہے۔
دہلی پولیس کے بیان کے مطابق، یہ کارروائی 13 اکتوبر کی صبح پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد کی گئی، جب تینوں کارکنوں اور سی جے پی کے 11 دیگر ارکان نے مبینہ طور پر ایک نجی راستے سے جنتر منتر کے احتجاجی مقام تک پہنچنے کی کوشش کی۔ پولیس اہلکاروں نے انہیں روکنے کے لیے مداخلت کی، لیکن پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس دوران مظاہرین نے سرکاری اہلکاروں کو ان کے فرائض انجام دینے سے روکنے کی کوشش کی۔
سی جے پی نے واضح کیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ برقرار رہے گا۔ تنظیم نے جنتر منتر کو احتجاجی مقامات کی فہرست سے خارج کیے جانے کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انتخابی احتساب اور جمہوری حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
جنتر منتر طویل عرصے سے دہلی میں عوامی احتجاج، سیاسی مظاہروں اور مختلف سماجی و شہری مطالبات کو اجاگر کرنے کا ایک اہم مقام رہا ہے۔ ایسے میں اس کی حیثیت ختم کیے جانے کے فیصلے نے احتجاج کے حق اور مظاہروں کے لیے متبادل مقامات کی دستیابی سے متعلق بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔