چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والے نوجوان رہنماؤں کے خلاف کارروائی پر ابھجیت دپکے اور آتشی نے سوال اٹھائے، اجنکیا شندے پیس بانڈ بھرنے کے بعد رہا۔
نئی دہلی: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والے نوجوان مظاہرین سورو داس اور آشوتوش رانکا کو پانچ روزہ عدالتی حراست میں تہاڑ جیل بھیج دیا گیا ہے۔ اس کارروائی پر احتجاجی تحریک کی قیادت کر رہے ابھجیت دپکے نے سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا ہے کہ آخر ان دونوں کا قصور کیا تھا؟ کیا جنتر منتر پر ترنگا لہرانے کی کوشش کرنا گناہ تھا؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق، دہلی پولیس نے سورو داس اور آشوتوش رانکا پر بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 163 کی خلاف ورزی اور ضمانتی بانڈ کی شرائط توڑنے کا الزام عائد کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں نے پابندیوں کی خلاف ورزی دوبارہ کی، جس کے بعد انہیں عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے دونوں کو پانچ روزہ عدالتی حراست میں بھیجنے کا حکم دیا۔
اس کارروائی پر ابھجیت دپکے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے لکھا کہ سورو اور آشوتوش کو پانچ روزہ عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ہے اور ان کی غلطی صرف جنتر منتر پر ترنگا لہرانا تھی۔ دہلی کی سابق وزیر اعلیٰ اور اسمبلی میں قائد حزب اختلاف آتشی نے بھی اس کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے سوال کیا کہ آخر دونوں کا قصور کیا تھا؟
واضح رہے کہ دہلی پولیس نے منگل کے روز سورو داس، آشوتوش رانکا اور اجنکیا شندے کو اس وقت حراست میں لیا تھا، جب وہ جنتر منتر کے بیریکیڈ والے علاقے میں داخل ہوئے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔ بعد ازاں اجنکیا شندے کو پیس بانڈ بھروانے کے بعد رہا کر دیا گیا، جبکہ سورو داس اور آشوتوش رانکا کو عدالت کے حکم پر تہاڑ جیل بھیج دیا گیا۔