انڈیا اتحاد کی مہاریلی میں ملک بھر سے ہزاروں افراد کی شرکت، اپوزیشن رہنماؤں کے مشترکہ مارچ سے لے کر روایتی لباس، لوک گیتوں اور ثقافتی مظاہروں تک ہر منظر نے توجہ کھینچی، رام لیلا میدان سے اطراف کی سڑکوں تک نظر آیا عوامی جوش و خروش
نئی دہلی: انتخابی عمل میں شفافیت اور ووٹ کے حق کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہوئے اتوار کو دہلی کے تاریخی رام لیلا میدان میں انڈیا اتحاد کی جانب سے منعقدہ ’ووٹ بچاؤ، ملک بچاؤ‘ مہاریلی میں لوگوں کا غیر معمولی اجتماع دیکھنے کو ملا۔ ملک کی مختلف ریاستوں سے ہزاروں کی تعداد میں پہنچنے والے افراد نے اس ریلی کو ایک بڑے سیاسی مظاہرے کی شکل دے دی۔ رام لیلا میدان ہی نہیں، اس کے اطراف کی سڑکوں، چوراہوں اور فلائی اوور تک لوگوں کی بھیڑ دکھائی دی۔ ریلی میں سیاسی نعروں کے ساتھ ثقافتی مظاہروں، روایتی لباس اور مختلف سماجی طبقوں کی شرکت نے بھی خاص توجہ حاصل کی۔ منتظمین اور شرکا کا دعویٰ تھا کہ کئی دہائیوں بعد دہلی میں کسی ایک سیاسی مسئلے پر اس پیمانے کا اجتماع دیکھنے کو ملا ہے۔
اپوزیشن کے سرکردہ رہنماؤں کا مشترکہ مارچ، ہزاروں افراد نے کی شرکت
مہاریلی کے آغاز سے قبل انڈیا اتحاد کے سرکردہ رہنماؤں نے ایک بڑا مشترکہ مارچ نکالا۔ اس میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی، سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو، ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی، آر جے ڈی رہنما تیجسوی یادو، این سی پی (شرد پوار گروپ) کی رہنما سپریا سولے، نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ، پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی، شیوسینا (ادھو ٹھاکرے گروپ) کے رہنما سنجے راوت، سی پی آئی کے جنرل سکریٹری ڈی راجا اور سی پی ایم کے رہنما ایم اے بے بی سمیت متعدد اپوزیشن رہنماؤں نے شرکت کی۔
اس مارچ میں ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سکھویندر سنگھ سکھو، تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی اور کیرالہ کے رہنما وی ڈی ستیشن سمیت 20 سیاسی جماعتوں کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔ مارچ منٹو روڈ سے شروع ہوکر رام لیلا میدان تک پہنچا۔ سینئر رہنما کھلی گاڑیوں میں سوار تھے، جب کہ ہزاروں کارکن اور حامی ان کے ساتھ چل رہے تھے۔ راستے کے دونوں جانب بڑی تعداد میں لوگ رہنماؤں کے استقبال کے لیے موجود تھے۔
شرکا کی غیر معمولی تعداد کے باعث مارچ کو رام لیلا میدان پہنچنے میں تقریباً تین گھنٹے لگ گئے۔ جب مختلف جماعتوں کے رہنما ایک ساتھ اسٹیج پر پہنچے اور ہاتھ اٹھا کر عوام کا استقبال کیا تو وہاں موجود لوگوں نے پرجوش نعروں سے ان کا خیرمقدم کیا۔ اس اجتماع میں اپوزیشن اتحاد کی مشترکہ سیاسی قوت کا مظاہرہ بھی نمایاں رہا۔
ملک بھر سے دہلی پہنچے مظاہرین، میدان سے سڑکوں تک نظر آیا ہجوم
ریلی میں شرکت کے لیے ملک کے مختلف حصوں سے لوگوں کی آمد کا سلسلہ ہفتے کی رات ہی سے شروع ہوگیا تھا۔ اتوار کی صبح ہوتے ہوتے رام لیلا میدان اور اس کے اطراف کے علاقوں میں لوگوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔ میدان کے علاوہ قریبی سڑکوں، چوراہوں اور فلائی اوور کے آس پاس بھی لوگوں کا جم غفیر دکھائی دیا۔
شرکا کے ہاتھوں میں قومی پرچم، سیاسی جماعتوں کے جھنڈے، بینر اور پوسٹر تھے۔ لوگ ’ووٹ چور، گدی چھوڑ‘ اور ’ووٹ بچاؤ، ملک بچاؤ‘ کے نعرے لگاتے ہوئے ریلی کی جانب بڑھ رہے تھے۔ مختلف ریاستوں سے آئے مظاہرین اپنے علاقوں میں ووٹر لسٹوں سے متعلق شکایات اور انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج درج کرانے پہنچے تھے۔
اس موقع پر کرناٹک سے آئے مظاہرین کا ایک طویل بینر خاص طور پر توجہ کا مرکز بنا۔ کئی میٹر طویل اس بینر پر ایسے ووٹروں کے نام درج تھے جن کے مطابق ان کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کردیے گئے تھے۔ مظاہرین نے اس کے ذریعے اپنے دعوؤں اور شکایات کو عوام کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی۔
سیاسی کارکنوں کے ساتھ سماج کے مختلف طبقوں کی بھرپور شرکت
اس مہاریلی کی ایک نمایاں خصوصیت یہ رہی کہ اس میں صرف سیاسی جماعتوں کے کارکن اور حامی ہی شریک نہیں ہوئے بلکہ سماج کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ سادھو سنتوں، نوجوانوں، طلبہ، خواتین، دانشوروں اور سماجی کارکنوں کی موجودگی نے اس اجتماع کو ایک وسیع سماجی مظاہرے کی شکل دے دی۔
مختلف ریاستوں سے آئے لوگوں نے اپنے روایتی لباس زیب تن کر رکھے تھے، جس سے ریلی میں ملک کی ثقافتی رنگارنگی بھی نمایاں ہوئی۔ کئی مقامات پر مظاہرین نے اپنے روایتی انداز میں احتجاج درج کرایا۔ کہیں ڈھول اور نقاروں کی تھاپ پر لوگ رقص کرتے نظر آئے تو کہیں ڈفلی اور لوک گیتوں کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کیا گیا۔
احتجاج کے یہ منفرد انداز محض سیاسی نعروں تک محدود نہیں رہے۔ مختلف مقامات پر فنکاروں نے نکڑ ناٹک پیش کیے، جب کہ کارٹونوں اور علامتی خاکوں پر مشتمل بینروں کے ذریعے انتخابی بے ضابطگیوں اور ووٹروں کے حقوق سے متعلق سوالات اٹھائے گئے۔ ڈھول کی تھاپ، لوک گیتوں اور احتجاجی نعروں کی آواز نے پورے علاقے کو ایک بڑے عوامی مظاہرے کا منظر پیش کیا۔
ووٹ کے حق اور انتخابی شفافیت کا مطالبہ، چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج
انڈیا اتحاد کی اس مہاریلی کا بنیادی مقصد چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج درج کرانا اور انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ ووٹر لسٹوں پر نظرثانی کے دوران بڑی تعداد میں اہل ووٹروں کے نام حذف کیے گئے ہیں، جس سے ان کے حق رائے دہی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
اپوزیشن رہنماؤں نے اس معاملے کو جمہوریت اور آئینی حقوق سے جوڑتے ہوئے کہا کہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات جمہوری نظام کی بنیادی ضرورت ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ انتخابی عمل میں شفافیت یقینی بنائی جائے اور ووٹر لسٹوں میں موجود مبینہ خامیوں کو دور کیا جائے تاکہ کوئی بھی اہل شہری اپنے حق رائے دہی سے محروم نہ رہے۔
ریلی میں مختلف ریاستوں سے لوگوں کی بڑی تعداد میں شرکت کے ذریعے اپوزیشن نے اس مسئلے کو قومی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ کرناٹک کے مظاہرین کے طویل بینر سے لے کر مختلف ریاستوں کے کارکنوں کے احتجاجی نعروں تک، ہر جگہ ووٹر لسٹوں اور ووٹ کے تحفظ کا معاملہ نمایاں رہا۔
عام شہریوں کا تعاون، آٹو اور ٹیکسی ڈرائیوروں نے بھی کی مدد
ریلی میں شرکت کے لیے آنے والے لوگوں کو مقامی شہریوں کی جانب سے بھی تعاون ملا۔ منتظمین کے مطابق کئی آٹو اور ٹیکسی ڈرائیوروں نے مظاہرین کو مفت رام لیلا میدان تک پہنچایا۔ اس طرح سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے علاوہ عام شہریوں نے بھی ریلی کے شرکا کی مدد میں حصہ لیا۔
بڑی تعداد میں لوگوں کی موجودگی کے باوجود اجتماع کو منظم رکھنے کی کوشش کی گئی۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن اپنے اپنے جھنڈوں اور بینروں کے ساتھ موجود رہے اور شرکا کی رہنمائی کرتے دکھائی دیے۔
سوشل میڈیا پر بھی چھائی مہاریلی، تصاویر اور ویڈیوز کی بھرمار
رام لیلا میدان میں ہونے والی اس مہاریلی کی گونج سوشل میڈیا پر بھی سنائی دی۔ دن بھر ریلی کی تصاویر، ویڈیوز، احتجاجی نعروں اور ثقافتی مظاہروں کی جھلکیاں مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر شیئر کی جاتی رہیں۔ شرکا نے اپنی اپنی ریاستوں سے آئے لوگوں کی موجودگی کو نمایاں کیا، جب کہ سیاسی جماعتوں کے حامیوں اور عام شہریوں نے بھی ریلی کے مختلف مناظر پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔
محض سیاسی اجتماع نہیں، انتخابی شفافیت پر ایک بڑا قومی سوال
سیاسی مبصرین کے مطابق انڈیا اتحاد کی اس مہاریلی کو محض ایک سیاسی اجتماع کے طور پر دیکھنا کافی نہیں ہوگا۔ انتخابی عمل کی شفافیت، ووٹر لسٹوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور چیف الیکشن کمشنر کے کردار سے متعلق اٹھنے والے سوالات نے اسے ایک بڑے سیاسی مباحثے کا حصہ بنا دیا ہے۔
اس ریلی کے ذریعے اپوزیشن اتحاد نے مشترکہ طور پر یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ ووٹ کے حق اور انتخابی نظام سے متعلق معاملات پر وہ متحد ہوکر جدوجہد کرنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم اب اہم سوال یہ ہے کہ رام لیلا میدان سے اٹھنے والی یہ آواز آنے والے دنوں میں کس حد تک ملک گیر سیاسی تحریک کی شکل اختیار کرتی ہے اور انتخابی اصلاحات سے متعلق جاری بحث پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔