رام لیلا میدان میں ’ووٹ بچاؤ، ملک بچاؤ‘ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے الزام لگایا کہ حکومت آئین کے ذریعے دیے گئے عوامی حقوق چھیننا چاہتی ہے۔
نئی دہلی: دہلی کے رام لیلا میدان میں اتوار کو انڈیا اتحاد کی جانب سے ’ووٹ بچاؤ، ملک بچاؤ‘ کے عنوان سے ایک بڑی ریلی منعقد کی گئی، جس میں اپوزیشن جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں، کارکنوں، طلبہ تنظیموں اور سماجی کارکنوں نے شرکت کی۔ ریلی میں کانگریس رہنما راہل گاندھی، سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو، مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سمیت متعدد اپوزیشن رہنما موجود تھے۔ جموں و کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے بھی شرکت کی اور مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستان میں رہنے والے تمام شہری برابر ہیں، خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ہندوستانی کو اس کے ووٹ کے حق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔
فاروق عبداللہ نے کہا، ’’یہ لوگ مسلمانوں پر انگلیاں اٹھاتے ہیں اور انہیں پاکستانی کہتے ہیں، لیکن کسی کا بھی تعلق کسی مذہب سے ہو، سب ہندوستانی ہیں اور سب برابر ہیں۔ کسی ہندوستانی کو اس کے ووٹ سے محروم نہیں ہونا چاہیے۔ ان سے ڈرو نہیں، یہ چلے جائیں گے۔‘‘
انہوں نے بی جے پی اور آر ایس ایس کے کارکنوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ بھی اسی ملک میں رہیں گے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے پہلے بھی اس ملک کے لیے اپنا خون دیا ہے اور آئندہ بھی دیتے رہیں گے۔‘‘ فاروق عبداللہ نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا حصہ تھا اور ہمیشہ ہندوستان کا حصہ رہے گا۔
ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی مرکزی حکومت پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت آئین کے ذریعے عوام کو حاصل حقوق چھیننے اور ملک کے آئینی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا، ’’آپ اس ملک کے مسائل کو بدلنا چاہتے ہیں۔ مودی جی نے 1947 سے 2014 تک ہماری حکومتوں نے جو دولت بنائی، وہ ساری دولت اپنے دوست کو دے دی۔ مودی جی وہ حقوق چھیننا چاہتے ہیں جو آئین نے آپ کو دیے ہیں۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔‘‘
انہوں نے ہندوتو کے نام پر سیاست کرنے والوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور رام مندر کے چندے میں مبینہ خردبرد کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس سے بڑی شرم کی بات کیا ہوسکتی ہے۔ محبوبہ مفتی نے الزام لگایا کہ حکومت آئین کو بدلنے اور اسے اندر سے کھوکھلا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے، انہیں بیدار ہونا ہوگا۔
واضح رہے کہ انڈیا اتحاد کی اس ریلی میں اپوزیشن جماعتوں نے انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں اور ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی یعنی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کا معاملہ زور و شور سے اٹھایا۔ اپوزیشن رہنماؤں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ان کے عہدے سے ہٹانے اور ان کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔
ریلی میں شرکت کے لیے مختلف ریاستوں سے اپوزیشن جماعتوں کے رہنما، کارکنان اور حامی دہلی پہنچے تھے۔ منتظمین کے مطابق رام لیلا میدان میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت کے باعث پورا میدان بھر گیا۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہ مہم ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی کے دوران سامنے آنے والی مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف شروع کی گئی ہے، تاکہ ہر شہری کے ووٹ دینے کے آئینی حق کا تحفظ کیا جاسکے۔