راہل گاندھی کا 12 اکتوبر کو چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ’انڈیا‘ اتحاد کے ملک گیر احتجاج کا اعلان، کہا: جمہوریت کو کچلا جا رہا ہے
نئی دہلی: لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے اعلان کیا ہے کہ ’انڈیا‘ اتحاد 12 اکتوبر، پیر کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے ایک بار پھر سڑکوں پر اترے گا۔ انہوں نے دہلی میں احتجاج کے دوران طلبہ اور خواتین کے ساتھ مبینہ تشدد پر سخت اعتراض کرتے ہوئے الزام لگایا کہ دہلی پولیس اور بی جے پی کارکنوں نے مظاہرین کو نشانہ بنایا اور نوجوانوں کی آواز دبانے کی کوشش کی۔
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر متعدد پوسٹس کے ذریعے مرکزی حکومت، وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے وزیر اعظم کو فلم ’مسٹر انڈیا‘ کے مشہور ولن کردار ’موگیمبو‘ سے تشبیہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت اختلافِ رائے کو دبانے اور نوجوانوں کے احتجاج کو کچلنے کی کوشش کر رہی ہے۔
کانگریس رہنما نے دہلی پولیس پر ’غنڈہ گردی‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ امت شاہ کے ماتحت کام کرنے والی پولیس نہ صرف خود طاقت کا استعمال کر رہی ہے، بلکہ ان کے بقول بی جے پی اور آر ایس ایس کے کارکنوں کو بھی خواتین اور نوجوانوں کے خلاف تشدد کی کھلی چھوٹ دی جا رہی ہے۔ تاہم، ان الزامات پر متعلقہ فریقوں کا موقف اس رپورٹ میں شامل نہیں ہے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ نوجوانوں اور طلبہ کی آواز دبانے کی کوششوں سے ان کا غصہ کم ہونے کے بجائے مزید بڑھے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 12 اکتوبر کو کانگریس، پورا ’انڈیا‘ اتحاد اور ملک کے نوجوان بڑی تعداد میں سڑکوں پر اتریں گے اور احتجاج کی آواز پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ بلند کی جائے گی۔
انہوں نے وزیر داخلہ امت شاہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ چاہے کتنی ہی بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کر دیے جائیں یا بی جے پی اور آر ایس ایس کے کارکنوں کو بلا لیا جائے، اپوزیشن پیچھے نہیں ہٹے گی۔ راہل گاندھی نے کہا کہ وہ خوف زدہ ہونے والے نہیں ہیں اور یہ لڑائی جاری رہے گی۔
راہل گاندھی نے یہ بھی اعلان کیا کہ اپوزیشن جماعتوں کے رہنما پیر کے روز چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت سے ملاقات کریں گے۔ ان کے مطابق، اس ملاقات میں دہلی میں مظاہرین کے ساتھ مبینہ تشدد اور پولیس کی کارروائی پر جوابدہی کا مطالبہ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ جب دہلی کی سڑکوں پر آئین کی خلاف ورزی اور جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے الزامات سامنے آ رہے ہوں تو قانون کے رکھوالے خاموش تماشائی نہیں بن سکتے۔ راہل گاندھی نے سوال اٹھایا کہ کیا اپوزیشن خاموش رہ کر آئین کی مبینہ پامالی کو برداشت کرے گی؟ انہوں نے واضح کیا کہ ایسا نہیں ہوگا اور اس معاملے میں جوابدہی یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
ایک اور پوسٹ میں راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر انتخابی دھاندلی کے ذریعے جمہوریت کو کمزور کرنے اور عوام کی آواز دبانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سنیچر کو پیش آنے والے واقعات کے دوران پولیس اہلکاروں اور بی جے پی کارکنوں نے طلبہ پر تشدد کیا۔
راہل گاندھی نے اپنے سخت بیان میں کہا کہ وزیر اعظم مودی نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور عوام کی آواز کو دبانے کے ذریعے بھارتی جمہوریت کی بنیادوں کو نقصان پہنچایا ہے۔
واضح رہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر احتجاج اور اس دوران مظاہرین کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے معاملے نے سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اب 12 اکتوبر کو ’انڈیا‘ اتحاد کے مجوزہ احتجاج اور چیف جسٹس سے ملاقات پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔