چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے یکطرفہ فیصلے کرنے کے الزامات مسترد، کمیشن نے کہا کہ انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرِ ثانی سے متعلق تمام احکامات آئینی و قانونی ضابطوں کے مطابق جاری کیے گئے۔
نئی دہلی: الیکشن کمیشن آف انڈیا نے سپریم کورٹ میں داخل اپنے جوابی حلف نامے میں واضح کیا ہے کہ انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرِ ثانی (ایس آئی آر) سے متعلق تمام فیصلے کمیشن کے تینوں ارکان نے متفقہ طور پر کیے تھے۔ کمیشن نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر دیگر الیکشن کمشنرز کے اعتراضات کو نظر انداز کرتے ہوئے یکطرفہ فیصلے کرنے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سلسلے میں جاری کیے گئے تمام احکامات آئینی اور قانونی دفعات کے مطابق تھے۔
ڈپٹی الیکشن کمشنر بھانو پرکاش یتورُو کی جانب سے داخل حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ 24 جون 2025، 27 اکتوبر 2025 اور 14 مئی 2026 کو جاری کیے گئے ایس آئی آر سے متعلق احکامات الیکشن کمیشن کے متفقہ فیصلوں کا نتیجہ تھے۔ کمیشن کے مطابق یہ فیصلے آئینِ ہند کے آرٹیکل 324 اور چیف الیکشن کمشنر و دیگر الیکشن کمشنرز ایکٹ 2023 کی دفعہ 18 کے تحت حاصل اختیارات کے مطابق کیے گئے۔
یہ حلف نامہ راکیش کمار سنگھ کی جانب سے دائر اس درخواست کے جواب میں پیش کیا گیا ہے، جس میں چیف الیکشن کمشنر کے طریقۂ کار اور کمیشن کے بعض فیصلوں کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست میں ایک میڈیا رپورٹ کی بنیاد پر دعویٰ کیا گیا تھا کہ الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کے اعتراضات کے باوجود ایس آئی آر سے متعلق 14 اہم فیصلے یکطرفہ طور پر کیے گئے۔
الیکشن کمیشن نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن کی نیت اور کارکردگی پر شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش افسوس ناک ہے۔ حلف نامے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ چیف الیکشن کمشنر یا دیگر الیکشن کمشنرز کی جانب سے فائلوں پر درج کیے گئے نوٹس، سوالات، تجاویز اور مشاہدات دفتری کارروائی کا حصہ ہوتے ہیں؛ انہیں کمیشن کا حتمی فیصلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کمیشن کے مطابق الیکشن کمشنرز اور کابینہ سکریٹری کے درمیان خط و کتابت کی بنیاد پر اخذ کیے گئے نتائج بھی غلط فہمی پر مبنی ہیں۔
فارم 6 میں ترمیم کے الزام کی تردید
الیکشن کمیشن نے اس الزام کو بھی مسترد کیا کہ ایس آئی آر کے احکامات کے ذریعے ووٹر رجسٹریشن کے فارم 6 میں تبدیلی کی گئی۔ کمیشن نے مؤقف اختیار کیا کہ رجسٹریشن آف الیکٹرز رولز 1960 کے تحت مقررہ فارم میں ترمیم کا اختیار صرف مرکزی حکومت کو حاصل ہے، جبکہ ایس آئی آر کے دوران استعمال ہونے والا اعلامیہ (ڈیکلریشن) فارم 6 سے الگ دستاویز ہے۔
حلف نامے کے مطابق، آن لائن پورٹل پر فارم 6 اور اعلامیے کو ایک ساتھ پیش کیے جانے سے یہ تاثر پیدا ہونے کا خدشہ تھا کہ فارم میں ترمیم کر دی گئی ہے۔ کمیشن نے وضاحت کی کہ اعلامیے کا مقصد ووٹر رجسٹریشن کے خواہش مند افراد کو دعووں اور اعتراضات کے مرحلے میں بار بار دستاویزات جمع کرانے کی زحمت سے بچانا اور ان کے ریکارڈ کو سابقہ انتخابی فہرستوں سے جوڑنے میں سہولت فراہم کرنا تھا۔
کمیشن کے مطابق 24 جون 2025 کے حکم میں اس اعلامیے کو ضمیمہ ڈی کے طور پر شامل کیا گیا تھا، جبکہ بعد کے احکامات میں اسے مناسب تبدیلیوں کے ساتھ ضمیمہ چہارم کا نام دیا گیا۔ تاہم، اس انتظامی تبدیلی سے فارم 6 کی قانونی حیثیت یا اس کے مقررہ متن میں کوئی ترمیم نہیں ہوئی۔
الیکشن کمیشن نے مزید بتایا کہ 21 اکتوبر 2026 سے آن لائن درخواست کے عمل کو دو الگ حصوں، یعنی فارم 6 اور ایس آئی آر اعلامیے، میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، تاکہ آن لائن درخواست کا طریقۂ کار کاغذی درخواستوں کے مطابق ہو سکے۔
ووٹروں کے ناموں میں تبدیلی کے لیے باقاعدہ حکم ضروری
ای سی آئی نیٹ (ECINet) کے حوالے سے کمیشن نے واضح کیا کہ انتخابی فہرست میں کسی ووٹر کا نام شامل کرنے یا خارج کرنے کے لیے متعلقہ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر کا باقاعدہ حکم ضروری ہے۔ محض آن لائن نظام یا انتظامی طریقۂ کار کی بنیاد پر کسی نام کو شامل یا خارج نہیں کیا جا سکتا۔
الیکشن کمیشن نے درخواست کی قابلِ سماعت ہونے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ بنیادی طور پر ایک میڈیا رپورٹ پر مبنی ہے اور درخواست گزار نے متعلقہ حکام سے حقائق کی آزادانہ تصدیق نہیں کی۔ اسی بنیاد پر کمیشن نے عدالت سے درخواست کے جواز پر غور کرنے کی استدعا کی ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں الیکشن کمیشن، چیف الیکشن کمشنر اور دیگر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے اپنے تازہ حلف نامے میں تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایس آئی آر سے متعلق فیصلے کسی ایک عہدیدار کے انفرادی اقدام کا نتیجہ نہیں، بلکہ کمیشن کے متفقہ فیصلے تھے۔