چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ، احتجاج جاری رکھنے کا اعلان؛ دیپکے، رانکا، داس اور دھرو راٹھی پولیس حراست سے رہا
نئی دہلی: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کے مطالبے پر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) اور اس کی حمایت کرنے والے گروپوں کا احتجاج اتوار کو دوسرے روز بھی جاری رہا۔ احتجاج کے پیش نظر دہلی کے کئی علاقوں میں ٹریفک پابندیاں برقرار ہیں، جب کہ قومی راجدھانی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ مظاہرین نے واضح کیا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے، احتجاج جاری رہے گا۔
دہلی ٹریفک پولیس کی ایڈوائزری کے مطابق، اتوار کی صبح 6 بجے سے شہر کے متعدد اہم راستوں پر ٹریفک کی آمد و رفت کو منظم کرنے کے لیے پابندیاں عائد کی گئیں اور کئی مقامات پر راستوں کو تبدیل کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں جنتر منتر، کناٹ پلیس، منڈی ہاؤس، پٹیل چوک اور لیوٹینز دہلی کے دیگر اہم علاقوں میں ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔
متاثرہ مقامات میں اشوکا روڈ-جنتر منتر روڈ گول چکر، ٹالسٹائی مارگ-جن پتھ کراسنگ، جے سنگھ روڈ-سنسد مارگ کراسنگ، ریل بھون گول چکر، پٹیل چوک، گول ڈاک خانہ اور کناٹ پلیس کے اطراف کے علاقے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ منڈی ہاؤس، منٹو روڈ-دین دیال اپادھیائے مارگ جنکشن، لودھی روڈ فلائی اوور، نیلا گنبد گول چکر، سمراٹ ہوٹل گول چکر اور سردار پٹیل مارگ-پنچ شیل مارگ کراسنگ کے آس پاس بھی ٹریفک متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
ٹریفک پولیس نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور نئی دہلی و وسطی دہلی سے گزرتے وقت اضافی وقت لے کر چلنے کا مشورہ دیا ہے۔ ریلوے اسٹیشنوں، بین ریاستی بس اڈوں اور ہوائی اڈے جانے والے مسافروں کو بھی ممکنہ تاخیر کے پیش نظر اپنے سفر کی پیشگی منصوبہ بندی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق، حالات کا جائزہ لے کر پابندیوں میں ضرورت کے مطابق تبدیلی کی جا سکتی ہے۔
احتجاج جاری رکھنے کا اعلان
سی جے پی کے رہنما اجنکیا شندے نے سنیچر کو ایچ کے ایس سرجیت بھون میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ جب تک گیانیش کمار کو چیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے نہیں ہٹایا جاتا، تب تک روزانہ جنتر منتر کی جانب مارچ کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ حراست کے دوران دہلی پولیس نے سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے سمیت دیگر مظاہرین کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا۔
واضح رہے کہ دہلی پولیس نے جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج کی اجازت نہیں دی تھی۔ سنیچر کو مظاہرین کو احتجاجی مقام تک پہنچنے سے روکنے کے لیے کارروائی کی گئی، جس کے دوران بڑی تعداد میں لوگوں کو حراست میں لیا گیا۔ پولیس نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے شہر کے مختلف حصوں، سرحدی علاقوں، ریلوے اسٹیشنوں، بس اڈوں اور دیگر حساس مقامات پر نگرانی بڑھا دی ہے۔
دیپکے، رانکا، داس اور دھرو راٹھی رہا
دریں اثنا، موصولہ اطلاعات کے مطابق، سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے اور ان کے ساتھی رانکا، داس اور یوٹیوبر دھرو راٹھی کو اتوار کے روز پولیس حراست سے رہا کر دیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ انہیں دہلی کینٹ پولیس اسٹیشن میں ایگزیکٹو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔
اس سے قبل سنیچر کو احتجاج میں شرکت کے لیے قومی راجدھانی پہنچنے پر انہیں حراست میں لے لیا گیا تھا۔ یہ کارروائی جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج سے پہلے کی گئی تھی۔
دہلی میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات
احتجاج کے دوسرے روز بھی دہلی میں سکیورٹی کے وسیع انتظامات برقرار رکھنے کی اطلاع ہے۔ خبر کے مطابق، شہر میں 30 ہزار سے زائد پولیس اور نیم فوجی اہلکار تعینات کیے جانے کا منصوبہ ہے، جب کہ دہلی پولیس کی مدد کے لیے سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز (سی اے پی ایف) کی 120 سے زائد کمپنیاں بھی تعینات ہیں۔
نئی دہلی ضلع کو 20 زونز میں تقسیم کیا گیا ہے، جہاں جوائنٹ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز صورت حال کی نگرانی کر رہے ہیں۔ مختلف یونٹس کے سربراہ اسپیشل کمشنرز بھی سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
سی جے پی کی جانب سے احتجاج جاری رکھنے کے اعلان کے بعد پولیس نے کسی بھی ممکنہ اجتماع کو روکنے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔ ایسے میں دہلی کے شہریوں اور مسافروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سفر سے قبل ٹریفک پولیس کی تازہ ترین ایڈوائزری دیکھیں اور متاثرہ علاقوں میں جانے سے پہلے متبادل راستوں پر غور کریں۔