سونیا گاندھی نے کہا کہ اگر ہندوستان اپنی روایتی خارجہ پالیسی پر قائم رہتا تو مغربی ایشیا میں کسی بھی بڑے تناؤ یا ایران-امریکہ جیسے تصادم کی صورت میں فطری ثالث کا کردار ادا کر سکتا تھا۔ کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے غزہ جنگ، اسرائیل اور ہندوستان کی خارجہ پالیسی سے متعلق مرکزی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ انگریزی اخبار ’دی انڈین ایکسپریس‘ میں شائع اپنے ایک مضمون میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر ہندوستان نے اپنی روایتی اور متوازن خارجہ پالیسی برقرار رکھی ہوتی تو مغربی ایشیا میں اس کا کردار کہیں زیادہ مؤثر ہوتا۔ سونیا گاندھی کا کہنا ہے کہ آج ہندوستان پورے خطے میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہوتا، لیکن حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا اور پاکستان کا کردار بڑھ گیا۔