کانگریس کی سابق صدر نے انکشاف کیا کہ 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کے انہدام کا منظر دیکھ کر انہیں احساس ہوگیا تھا کہ ہندوستان کے سیکولر تشخص کے تحفظ کے لیے طویل جدوجہد کرنی ہوگی؛ اندرا گاندھی کے ایمرجنسی نافذ کرنے کے فیصلے کو بھی غلطی قرار دیا۔
کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی نے انکشاف کیا ہے کہ 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کو منہدم ہوتے ہوئے ٹیلی ویژن پر دیکھ کر وہ آبدیدہ ہوگئی تھیں۔ ان کے مطابق اس واقعے نے انہیں یہ احساس دلایا کہ مہاتما گاندھی، جواہر لعل نہرو اور ان کے ساتھیوں نے جس سیکولر ہندوستان کی تعمیر کی کوشش کی تھی، اس کے تحفظ کے لیے اب ایک طویل جدوجہد درکار ہوگی۔
سونیا گاندھی نے یہ بات امریکی اخبار ’دی گارجین‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ بابری مسجد کے انہدام کا منظر دیکھ کر ان کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے تھے۔ اس واقعے نے انہیں ہندوستان کے سیکولر کردار اور اس کے مستقبل کے حوالے سے گہری تشویش میں مبتلا کردیا تھا۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ کانگریس کی اپنی بعض سیاسی اور تنظیمی ناکامیوں نے بھی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس کی سخت گیر ہندوتوا سیاست کے عروج کی راہ ہموار کرنے میں کسی حد تک کردار ادا کیا۔ ان کے بقول، ’’میرا خیال ہے کہ ہم کئی معاملات میں ضرورت سے زیادہ لاپروا ہوگئے تھے۔ ہمارا رویہ کچھ ایسا تھا جیسے ہمیں کسی چیز کی پروا ہی نہ ہو۔‘‘
ایمرجنسی کے معاملے پر گاندھی خاندان میں اختلاف
سونیا گاندھی نے اپنی خودنوشت ’بیلانگنگ: اے جرنی آف لو‘ میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کی جانب سے 1975 میں ایمرجنسی نافذ کیے جانے کے فیصلے اور اس وقت گاندھی خاندان کے اندر پائے جانے والے اختلافات کا بھی ذکر کیا ہے۔
ان کے مطابق ایمرجنسی کے معاملے پر خاندان کے افراد کی رائے ایک جیسی نہیں تھی۔ راجیو گاندھی اس فیصلے کے خلاف تھے اور انہوں نے اپنی والدہ اندرا گاندھی کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اپوزیشن کے دباؤ کے باوجود اگلے انتخابات تک انتظار کریں۔ اس کے برعکس سنجے گاندھی ایمرجنسی نافذ کرنے کے حامی تھے۔ ایک خاندانی عشائیے کے دوران بحث میں انہوں نے اندرا گاندھی کو خبردار کیا تھا کہ اپوزیشن انہیں سیاسی طور پر ختم کردے گی، اس لیے اسے روکنا ضروری ہے۔
سونیا گاندھی کے مطابق اس وقت سنجے گاندھی کا اپنی والدہ پر غیر معمولی اثر و رسوخ تھا، جو عوامی سطح پر بھی بحث کا موضوع بنا ہوا تھا۔ اس صورت حال نے خاندان کے اندر بھی کشیدگی پیدا کردی تھی۔ راجیو گاندھی نے اپنی والدہ کو اس فیصلے کے نتائج سے آگاہ کرنے کی کوشش کی، لیکن اندرا گاندھی نے ان کا مشورہ قبول نہیں کیا۔
سونیا گاندھی نے اپنی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ اگر سنجے گاندھی کو قابو میں رکھا گیا ہوتا تو بعد میں پیش آنے والے بہت سے نقصانات سے بچا جا سکتا تھا۔
اندرا گاندھی کا ایمرجنسی نافذ کرنا غلطی تھی: سونیا
سونیا گاندھی نے تسلیم کیا کہ ایمرجنسی نافذ کرنے کا اندرا گاندھی کا فیصلہ ایک غلطی تھا اور ان کے خیال میں اندرا گاندھی کو بھی بعد میں اس کا احساس ہوگیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں ہمیشہ محسوس ہوا کہ اندرا گاندھی بنیادی طور پر جمہوریت پر یقین رکھتی تھیں۔ ان کے بقول، ’’مجھے معلوم ہے کہ بہت سے لوگ اس بات پر ہنسیں گے، لیکن میرا ماننا ہے کہ ایمرجنسی کے دوران اندرا گاندھی خود بھی کبھی مطمئن نہیں تھیں۔ میرے خیال میں اس فیصلے کا بوجھ ان پر پڑ رہا تھا۔‘‘
اندرا گاندھی کے قتل کا دردناک منظر
انٹرویو میں سونیا گاندھی نے 31 اکتوبر 1984 کو اندرا گاندھی کے قتل کے دن پیش آنے والے واقعات کو بھی یاد کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ گھر پر موجود تھیں، جب انہیں پٹاخوں جیسی آوازیں سنائی دیں۔ وہ فوراً دوڑتی ہوئی اندرا گاندھی کے دفتر پہنچیں، جہاں انہوں نے اپنی ساس کو خون میں لت پت اور گولیوں سے چھلنی حالت میں زمین پر پڑا دیکھا۔
اندرا گاندھی کے دو سکھ محافظوں نے 1984 میں آپریشن بلیو اسٹار کے دوران امرتسر کے گولڈن ٹیمپل میں فوجی کارروائی کے ردعمل میں انہیں گولی مار دی تھی۔
سونیا گاندھی نے اس منظر کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ہر طرف خون پھیلا ہوا تھا اور اندرا گاندھی ان کے سوالوں کا کوئی جواب نہیں دے رہی تھیں۔ انہیں محسوس ہورہا تھا کہ شاید وہ اسی وقت دنیا سے رخصت ہوچکی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گھر سے اسپتال تک کا سفر آج بھی ان کے ذہن میں تازہ ہے۔ ان کے مطابق سڑک پر ٹریفک زیادہ نہیں تھا، لیکن گاڑی کی رفتار انہیں انتہائی سست محسوس ہورہی تھی۔ انہیں یہ احساس بھی ہوچکا تھا کہ اندرا گاندھی کے خاموش رہنے کا مطلب شاید یہ ہے کہ اب سب کچھ ختم ہوچکا ہے۔
سونیا گاندھی کی خودنوشت ’بیلانگنگ: اے جرنی آف لو‘ میں ان واقعات کے علاوہ ان کی نجی زندگی، گاندھی خاندان سے تعلق، راجیو اور اندرا گاندھی کے ساتھ رشتوں اور ہندوستانی سیاست میں ان کے سفر کے کئی اہم پہلو سامنے آئے ہیں۔ بابری مسجد کا انہدام، ایمرجنسی اور اندرا گاندھی کا قتل اس کتاب کے وہ اہم واقعات ہیں جن کے ذریعے سونیا گاندھی نے ہندوستان کی سیاسی تاریخ کے بعض فیصلہ کن ادوار کو اپنے ذاتی تجربات کی روشنی میں بیان کیا ہے۔