وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن کی نیشنل پارٹی اور اپوزیشن لیڈر کرس ہپکنز کی لیبر پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ؛ کسی بھی اتحاد کو واضح اکثریت ملنے کے آثار نہیں، حکومت سازی میں چھوٹی جماعتوں کا کردار اہم ہونے کا امکان۔
ویلنگٹن: نیوزی لینڈ کے عام انتخابات کے لیے ہفتہ کو ووٹنگ کا عمل مکمل ہوگیا۔ طویل اور سخت انتخابی مہم کے بعد حکمراں نیشنل پارٹی اور اپوزیشن کی لیبر پارٹی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے، تاہم ابتدائی جائزوں کے مطابق کسی بھی جماعت یا اتحاد کے لیے واضح اکثریت حاصل کرنا آسان دکھائی نہیں دے رہا۔ ایسے میں حکومت سازی کا انحصار چھوٹی جماعتوں پر ہوسکتا ہے، جن کا کردار اگلی حکومت کی تشکیل میں فیصلہ کن ثابت ہونے کا امکان ہے۔
وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن کی قیادت میں نیشنل پارٹی کی زیر سربراہی قدامت پسند اتحاد دوسری مدت کے لیے اقتدار برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، جب کہ سابق وزیر اعظم کرس ہپکنز کی قیادت میں لیبر پارٹی اقتدار میں واپسی کے لیے میدان میں ہے۔ انتخابی جائزوں کے مطابق دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلے کے باعث کسی بھی فریق کی کامیابی یقینی نہیں سمجھی جا رہی۔
نیوزی لینڈ میں 26 اکتوبر سے شروع ہونے والی ووٹنگ ہفتہ کی شام 7 بجے ختم ہوئی۔ الیکشن کمیشن کے منصوبے کے مطابق پولنگ ختم ہونے کے تقریباً 30 منٹ کے اندر ابتدائی پانچ فیصد ووٹوں کی گنتی کے نتائج جاری کیے جانے تھے۔ ہفتہ کی رات تک تقریباً 95 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کی توقع تھی، جب کہ بیرون ملک مقیم شہریوں کے ووٹوں سمیت حتمی اور تصدیق شدہ نتائج 27 نومبر کو جاری کیے جانے ہیں۔
وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن کے لیے یہ انتخاب سیاسی طور پر خاص اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے 2020 میں سیاست میں قدم رکھا تھا اور بعد میں وزارت عظمیٰ تک پہنچے۔ تاہم رواں سال انہیں اپنی ہی جماعت کے ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے دو مرتبہ عدم اعتماد کی تحریکوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد ان کی قیادت اور حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ دوسری جانب کرس ہپکنز تین سال قبل انتخابی شکست کے بعد دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حکومت سازی میں چھوٹی جماعتوں کا کردار اہم
نیوزی لینڈ کی تقریباً 56 لاکھ آبادی میں سے 38 لاکھ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل تھے۔ ملک میں متناسب نمائندگی کا انتخابی نظام رائج ہے، جس کے تحت ووٹر دو ووٹ ڈالتے ہیں۔ پہلا ووٹ اپنی پسندیدہ سیاسی جماعت کے لیے اور دوسرا اپنے مقامی انتخابی حلقے کے امیدوار کے لیے ہوتا ہے۔ کسی بھی جماعت یا اتحاد کو حکومت بنانے کے لیے پارلیمنٹ میں نصف سے زیادہ نشستوں کی حمایت درکار ہوتی ہے۔
انتخابی مہم سے پہلے کے جائزوں میں بھی دائیں بازو کے تین جماعتی اتحاد اور بائیں بازو کے تین جماعتی اتحاد، دونوں کے لیے واضح اکثریت حاصل کرنے کے امکانات غیر یقینی دکھائی دے رہے تھے۔ اس صورت حال میں چھوٹی جماعتیں حکومت سازی کے لیے اہم ہو سکتی ہیں۔
نیوزی لینڈ کی سیاست میں اس سے پہلے بھی ایسے مواقع آتے رہے ہیں جب کسی ایک جماعت یا اتحاد کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی اور حکومت بنانے کے لیے چھوٹی جماعتوں کی حمایت درکار ہوئی۔ اس بار بھی ’دی اپارچونیٹی پارٹی‘ (ٹی او پی) کی ممکنہ انتخابی کامیابی کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ اگر یہ جماعت پہلی مرتبہ پارلیمنٹ میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوتی ہے تو حکومت سازی کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات کی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔
لکسن پہلے ہی اپارچونیٹی پارٹی کے ساتھ اتحاد کے امکان کو مسترد کر چکے ہیں، تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر حکومت سازی کے لیے اس جماعت کی حمایت ناگزیر ہوئی تو دونوں بڑی جماعتوں کو اس کے ساتھ مذاکرات کرنا پڑ سکتے ہیں۔
معاشی مشکلات اور حکومتی کارکردگی انتخابی مہم کا اہم موضوع
نیوزی لینڈ کی معیشت کا بڑا انحصار بین الاقوامی تجارت پر ہے۔ عالمی معاشی اتار چڑھاؤ اور بیرونی اثرات کے باعث ملک کی معیشت کو گزشتہ عرصے میں مختلف چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ دونوں بڑی جماعتوں کے لیے ووٹروں کی حمایت حاصل کرنا اس لیے بھی مشکل رہا کہ عوام کے ایک طبقے میں حکومتی کارکردگی اور سیاسی قیادت سے متعلق عدم اطمینان پایا جاتا ہے۔
نیوزی لینڈ میں عوام براہ راست وزیر اعظم کا انتخاب نہیں کرتے، بلکہ پارلیمانی انتخابات کے ذریعے اپنے نمائندے اور سیاسی جماعتوں کو منتخب کرتے ہیں۔ حکومت اسی جماعت یا اتحاد کی تشکیل پاتی ہے جسے پارلیمنٹ میں اکثریت کی حمایت حاصل ہو۔
2023 کے انتخابات کے بعد نیشنل پارٹی نے دو دیگر جماعتوں، پاپولسٹ نظریات کی حامل نیوزی لینڈ فرسٹ اور لبرٹیرین نظریات کی حامل ایکٹ پارٹی کے ساتھ اتحاد کرکے حکومت بنائی تھی۔ اس سہ جماعتی اتحاد نے ملک کی حالیہ سیاسی تاریخ میں ایک قدامت پسند حکومت تشکیل دی۔
اب انتخابی نتائج کے بعد یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا کرسٹوفر لکسن کی قیادت میں موجودہ اتحاد دوبارہ حکومت بنانے میں کامیاب ہوتا ہے یا کرس ہپکنز کی قیادت میں اپوزیشن اقتدار میں واپسی کرتی ہے۔ اگر کسی بھی بڑے اتحاد کو واضح اکثریت نہیں ملتی تو چھوٹی جماعتوں کی حمایت اور ان کے ساتھ ہونے والے سیاسی مذاکرات نیوزی لینڈ کی اگلی حکومت کا فیصلہ کریں گے۔