کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے مودی حکومت پر شہریوں کی شخصی آزادی، کھانے پینے کی پسند، شادی اور ووٹ دینے کے حق کو محدود کرنے کی کوشش کا الزام لگایا؛ کہا کہ انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے ذریعے انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
کوچی: کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کہا ہے کہ گرفتاریوں اور حملوں کے باوجود وہ قومی پرچم ترنگا لے کر ملک بھر میں اپنا سفر جاری رکھیں گے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ شہریوں کی ذاتی آزادی، کھانے پینے کی عادات، شادی بیاہ اور ووٹ دینے کے حق کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ابھیجیت دیپکے ہفتہ کو انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف سی جے پی کی مہم ’جنتر منتر ایٹ کوچی‘ کے تحت منعقدہ احتجاجی ریلی سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابی نظام یقینی نہیں ہو جاتا۔
دیپکے نے دہلی کے جنتر منتر پر قومی پرچم لہرانے کے بعد اپنی اور پارٹی کے دو دیگر کارکنوں سورو داس اور آشوتوش رنکا کی گرفتاری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ جہاں بھی جائیں گے، ترنگا اپنے ساتھ لے کر جائیں گے۔ ان کے بقول، ’’مجھے یہ ترنگا لہرانے کے لیے جیل بھیجا گیا تھا۔ میرے دو ساتھی سورو اور آشو کو بھی یہی کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا۔ ہندوستان میں ایسا آخری مرتبہ برطانوی راج کے دوران ہوا تھا۔‘‘
انہوں نے موجودہ حکومت کا موازنہ برطانوی دور حکومت سے کرتے ہوئے الزام لگایا کہ شہریوں کی آزادی محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دیپکے نے وزیر اعظم نریندر مودی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ترنگے کو ملک کے ہر حصے میں لے کر جائیں گے۔ اگر انہیں گرفتار کرنا ہے تو دہلی، مہاراشٹر، کیرالہ یا تمل ناڈو، کسی بھی ریاست میں گرفتار کیا جا سکتا ہے، لیکن وہ دوبارہ واپس آکر ترنگا لہرائیں گے۔
کھانے، شادی اور ووٹ دینے کے حق پر کنٹرول کا الزام
ابھیجیت دیپکے نے الزام لگایا کہ حکومت بتدریج لوگوں کی نجی زندگی اور بنیادی حقوق میں مداخلت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے یہ طے کرنے کی کوشش کی گئی کہ لوگ کیا کھائیں، پھر یہ کہ وہ کس سے محبت کریں اور کس سے شادی کریں، اور اب معاملہ اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ لوگ کس کو ووٹ دیں، اس پر بھی اثر انداز ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ اسے انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
گاندھی، امبیڈکر اور نہرو کے نظریات کا حوالہ
اپنے خطاب میں دیپکے نے ہندوستان کی بنیاد رکھنے والے تین اہم رہنماؤں مہاتما گاندھی، ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر اور جواہر لعل نہرو کے نظریات کا حوالہ بھی دیا۔ انہوں نے مہاتما گاندھی کو ہندوستان کی روح، امبیڈکر کو اس کی ریڑھ کی ہڈی اور نہرو کو اس کا دماغ قرار دیا۔
انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان تینوں رہنماؤں سے بڑے نہیں ہو سکتے۔ دیپکے کے بقول، ’’اگر آپ 120 سال تک بھی اقتدار میں رہیں، تب بھی کبھی امبیڈکر، گاندھی اور نہرو سے بڑے نہیں ہو سکتے۔‘‘
ان کے اس خطاب میں قومی پرچم، شہری آزادیوں، انتخابی عمل اور ملک کے آئینی و جمہوری نظریات سے متعلق کئی اہم سوالات اٹھائے گئے۔