راجیو گاندھی سے محبت، اندرا گاندھی سے قربت اور ہندوستانی سیاست میں قدم رکھنے کے سفر کو سونیا گاندھی نے اپنی نئی کتاب میں بیان کیا ہے؛ بی جے پی حکومت کے 12 سالہ دور پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے جمہوری اداروں کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی میں وقت لگے گا۔
کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی کی طویل عرصے سے زیرِ انتظار خودنوشت ’بیلانگنگ: اے جرنی آف لو‘ (Belonging: A Journey of Love) جلد منظر عام پر آنے والی ہے۔ ہارپر کولنس انڈیا کے زیرِ اہتمام شائع ہونے والی یہ کتاب محض ایک سیاسی شخصیت کی زندگی کا احوال نہیں، بلکہ محبت، رشتوں، قربانیوں اور ہندوستان سے ان کی گہری وابستگی کے سفر کو بیان کرتی ہے۔ سونیا گاندھی نے ’دی ہندو‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کتاب کے مختلف پہلوؤں کے ساتھ ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال اور کانگریس کے مستقبل پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
سونیا گاندھی نے گزشتہ 12 برسوں کے دوران بی جے پی اور آر ایس ایس کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس عرصے میں ملک، جمہوریت اور اس کے اداروں کے ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی تبدیلی کے بعد بھی جمہوری نظام کو دوبارہ مستحکم کرنے میں وقت لگے گا اور اس کے لیے سیاسی جماعتوں کو مسلسل محنت کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ لوگ اب اس نقصان کو محسوس کرنے لگے ہیں اور ان کے اندر بے چینی بڑھ رہی ہے، تاہم انہیں امید ہے کہ ہندوستانی عوام بہتر حکمرانی کی واپسی کا خیرمقدم کریں گے۔
کانگریس کے زوال اور اس کی مستقبل کی سیاسی حکمت عملی سے متعلق سوال پر سونیا گاندھی نے مایوسی کا اظہار کرنے کے بجائے کہا کہ موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کو یکساں مواقع حاصل نہیں رہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سمیت مختلف اداروں پر حکومت کے اثر و رسوخ، مین اسٹریم میڈیا پر کنٹرول، مالی وسائل کی برتری اور مذہب کے سیاسی استعمال کو اس صورت حال کے اہم عوامل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تمام مشکلات کے باوجود کانگریس جدوجہد کر رہی ہے اور ہم خیال جماعتوں کے ساتھ مل کر آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے بعض حالیہ انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اب لوگ ان معاملات کے بارے میں پہلے سے زیادہ باخبر ہو رہے ہیں۔
محبت کی کہانی سے ہندوستان سے وابستگی تک
کتاب کے انٹرویو میں ’دی ہندو‘ کے مدیر این رام نے اسے بنیادی طور پر محبت کی کہانی قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ راجیو گاندھی اور سونیا گاندھی کے درمیان قائم ہونے والے گہرے تعلق کی داستان ہے، جو رفتہ رفتہ ایک وسیع تر وابستگی میں تبدیل ہوئی۔ اسی تعلق نے سونیا گاندھی کو راجیو کے خاندان، ہندوستان اور بالآخر ملک کی عوامی زندگی اور سیاست سے جوڑ دیا۔
این رام کے اس تاثر سے اتفاق کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے کہا کہ یہ صرف ان دونوں کی محبت کی کہانی نہیں، بلکہ اس بات کا بھی احوال ہے کہ کس طرح ان کے دل میں راجیو کے خاندان اور اس ملک کے لیے محبت پیدا ہوئی، جس سے راجیو کا تعلق تھا اور جو بعد میں ان کی اپنی شناخت اور وابستگی کا حصہ بن گیا۔ انہوں نے کہا کہ طویل عرصے تک وہ اپنی نجی زندگی کے ان پہلوؤں پر بات نہیں کرنا چاہتی تھیں، لیکن یہ کتاب اس سفر کو بیان کرتی ہے کہ کس طرح اسی محبت نے انہیں عوامی زندگی میں قدم رکھنے پر آمادہ کیا۔ جب انہیں محسوس ہوا کہ ان لوگوں کی قربانیاں خطرے میں پڑ رہی ہیں اور کانگریس کمزور ہو رہی ہے تو انہوں نے سیاست میں اپنا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔
اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی سے کیا سیکھا؟
سونیا گاندھی نے اپنی زندگی پر راجیو گاندھی اور اندرا گاندھی کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ ایک نوجوان دلہن کی حیثیت سے ہندوستان آئی تھیں تو انہیں اس ملک کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں۔ آج وہ جو کچھ بھی ہیں اور جو کچھ جانتی ہیں، اس میں ان دونوں کا بنیادی کردار ہے۔
ان کے مطابق اندرا اور راجیو کی ہمت، دوسروں کے تئیں احساس، سیکولر اور جمہوری ہندوستان سے وابستگی اور فرض شناسی کے جذبے نے انہیں گہرائی سے متاثر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان خصوصیات نے زندگی کے مشکل اور تذبذب بھرے مراحل میں انہیں ثابت قدم رہنے کا حوصلہ دیا۔
تقریباً 60 سال قبل کیمبرج کے ایک یونانی ریستوراں میں راجیو گاندھی سے پہلی ملاقات کرنے والی نوجوان اطالوی خاتون اور آج کی سونیا گاندھی کے درمیان مماثلت کے سوال پر انہوں نے کہا کہ بچپن اور پرورش کے دوران سیکھی ہوئی اقدار آج بھی ان کے اندر موجود ہیں، البتہ اس وقت وہ آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ مسکراتی اور ہنستی تھیں۔
غیر ملکی نژاد ہونے کے اعتراض پر استعفیٰ
سونیا گاندھی نے 1999 میں کانگریس کے اندر پیدا ہونے والے اس تنازعے کا بھی ذکر کیا، جب شرد پوار سمیت بعض رہنماؤں نے ان کی غیر ملکی نژاد ہونے کا معاملہ اٹھایا تھا اور ہندوستان میں اعلیٰ آئینی عہدے پر فائز ہونے کے ان کے حق پر سوالات کیے تھے۔ اس تنازعے کے دوران انہوں نے کانگریس صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا، تاہم بعد میں اپنا فیصلہ واپس لے لیا۔
اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے کہا کہ انہیں اس معاملے سے یقیناً تکلیف پہنچی تھی۔ انہیں یہ بات صدمے جیسی محسوس ہوئی کہ اتنے عرصے بعد بھی بعض لوگ انہیں ایک بیرونی شخص کی حیثیت سے دیکھ رہے تھے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بعد میں غور و فکر کے دوران انہیں احساس ہوا کہ ذاتی جذبات کو بڑے مقصد کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے، اس لیے انہوں نے اپنا کام جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
وزیر اعظم بننے کی پیشکش کیوں ٹھکرائی؟
2004 کے لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کی قیادت والے اتحاد کی کامیابی کے بعد سونیا گاندھی کو وزارت عظمیٰ کے لیے سب سے مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا تھا۔ پارٹی اور اتحادی جماعتوں کی حمایت بھی انہیں حاصل تھی، لیکن انہوں نے یہ عہدہ قبول نہیں کیا اور ڈاکٹر منموہن سنگھ کے وزیر اعظم بننے کی راہ ہموار کی۔
انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے کبھی سوچا کہ اگر وہ خود وزیر اعظم بن جاتیں تو یو پی اے حکومت کی پالیسیاں اور کانگریس کی حکمت عملی مختلف ہوتی، تو انہوں نے اس امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ خیال کبھی ان کے ذہن میں نہیں آیا۔ ان کے مطابق اس دور میں دونوں نے ایک ٹیم کی حیثیت سے کام کیا اور ان کے کردار واضح طور پر الگ تھے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ حکومت کی قیادت کر رہے تھے، جب کہ وہ خود کانگریس پارٹی کی سربراہی کر رہی تھیں۔ سونیا گاندھی نے اس مشترکہ تجربے کو مجموعی طور پر مثبت قرار دیا۔
سونیا گاندھی کی یہ خودنوشت ان کی نجی زندگی، خاندانی تعلقات اور سیاسی سفر کے کئی اہم پہلوؤں کو یکجا کرتی ہے۔ کتاب کے عنوان ’بیلانگنگ‘ یعنی اپنائیت اور وابستگی سے بھی اس کے مرکزی خیال کا اندازہ ہوتا ہے، جس میں ایک اطالوی نوجوان خاتون کے ہندوستان آنے، ایک سیاسی خاندان کا حصہ بننے اور بالآخر ہندوستانی سیاست کی اہم شخصیت بننے تک کے سفر کو بیان کیا گیا ہے۔