علی داموش نے لبنانی حکومت پر بے گھر افراد کی مدد میں ناکامی کا الزام عائد کیا، بیروت اور جنوبی مضافات کے متاثرین کو زیادہ امداد دینے کا فیصلہ۔
بیروت: حزب اللہ کی ایگزیکٹو کونسل کے سربراہ علی داموش نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ میں تباہ ہونے یا رہنے کے قابل نہ رہنے والے گھروں کے مالکان کو 14 ہزار ڈالر تک معاوضہ دیا جائے گا۔ انہوں نے لبنانی حکومت پر بے گھر افراد کی مدد کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
علی داموش کے مطابق، بیروت اور اس کے جنوبی مضافات میں گھر کھونے والے خاندانوں کو 14 ہزار ڈالر، جبکہ لبنان کے دیگر علاقوں کے متاثرین کو 12 ہزار ڈالر دیے جائیں گے۔ اس رقم میں 8 ہزار ڈالر فرنیچر کے لیے اور باقی رقم کرائے کے اخراجات کے لیے مختص ہوگی۔
حزب اللہ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کتنے خاندانوں کو معاوضہ دیا جائے گا اور اس پر مجموعی طور پر کتنی رقم خرچ ہوگی۔ تاہم، امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس امداد کے لیے مالی وسائل ایران فراہم کر سکتا ہے، جو طویل عرصے سے حزب اللہ کی مالی اور عسکری مدد کرتا رہا ہے۔
دوسری جانب، امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹامی پگوٹ نے گزشتہ ہفتے دعویٰ کیا تھا کہ حزب اللہ کے وعدہ کردہ معاوضے کے لیے رقم دستیاب نہیں ہے اور امریکی پابندیوں کے باعث ایران اسے حزب اللہ تک نہیں پہنچا سکے گا۔ اس پر علی داموش نے کہا کہ حزب اللہ کو امریکی انتظامیہ کے بیانات کی پرواہ نہیں اور وہ متاثرین کو دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔
بین الاقوامی تنظیم برائے ہجرت (آئی او ایم) کے مطابق، جنگ کے دوران لبنان میں تقریباً 12 لاکھ افراد بے گھر ہوئے تھے۔ جنگ بندی کے بعد بیشتر افراد اپنے گھروں کو واپس جا چکے ہیں، تاہم تین لاکھ سے زائد افراد اب بھی بے گھر ہیں۔ حزب اللہ نے متاثرین کے معاوضے کے لیے خصوصی مراکز قائم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے، جہاں خاندان اپنے نقصانات کا جائزہ کروا کر امداد حاصل کر سکیں گے۔