مسجد کے امام محمد ہارون نے سپلائی منقطع کیے جانے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سنگل جج کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔ عدالت نے دو ہفتوں میں جواب داخل کرنے کی ہدایت دی۔
نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے لوٹین دہلی میں واقع ریس کورس مسجد کی بجلی اور پانی کی سپلائی منقطع کیے جانے کے معاملے میں نئی دہلی میونسپل کونسل (این ڈی ایم سی) سے جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے سوال اٹھایا ہے کہ پیشگی نوٹس دیے بغیر مسجد کا بجلی کنکشن کس طرح منقطع کیا گیا۔
جسٹس سبرامونیم پرساد اور جسٹس رینو بھٹناگر پر مشتمل ڈویژن بنچ نے جمعہ کو مسجد کے امام محمد ہارون کی جانب سے دائر اپیل پر این ڈی ایم سی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر جواب داخل کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت دسمبر میں مقرر کی ہے۔
محمد ہارون نے سنگل جج کے 15 اکتوبر کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے جس میں مسجد کی بجلی اور پانی کی سپلائی بحال کرنے سے متعلق ان کی درخواست مسترد کردی گئی تھی۔
اپیل کنندہ کے وکیل ایم سفیان صدیقی نے عدالت میں دلیل دی کہ مسجد ایک باضابطہ طور پر نوٹیفائیڈ وقف جائیداد ہے اور اس کی بجلی و پانی کی سپلائی کسی پیشگی اطلاع یا قانونی کارروائی کے بغیر منقطع کردی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بجلی اور پانی جیسی بنیادی سہولیات زندگی کے حق، یعنی آئین کے آرٹیکل 21 کا لازمی حصہ ہیں، اس لیے قانونی جواز اور مناسب کارروائی کے بغیر ان کی فراہمی بند نہیں کی جاسکتی۔
وکیل کے مطابق، سپلائی منقطع کرنے کی کارروائی مبینہ طور پر قریبی کچی آبادیوں کو ہٹانے سے متعلق ہائی کورٹ کے حکم کے پس منظر میں کی گئی، حالاں کہ مسجد اس عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں تھی۔ انہوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ مسجد میں تین دہائیوں سے خدمات انجام دینے والے باقاعدہ مقرر امام کے حقوق اور مسجد سے ان کے تعلق کو نظرانداز کرنا درست نہیں تھا۔
اپیل میں کہا گیا ہے کہ سنگل جج کا فیصلہ بنیادی غلط فہمی پر مبنی اور قانونی اعتبار سے غیر مستحکم ہے۔ وکیل نے مزید نشاندہی کی کہ بجلی اور پانی کے کنکشن منقطع کرنے کے سلسلے میں کوئی واضح حکم جاری نہیں کیا گیا تھا، نہ ہی بقایا بل، بجلی چوری یا کسی قانونی خلاف ورزی کا نوٹس دیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ 29 اکتوبر کو دہلی ہائی کورٹ نے ریس کورس مسجد میں نماز ادا کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔ تاہم، مرکزی حکومت نے عدالت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ فی الحال مسجد کے خلاف کوئی منفی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
قابل ذکر ہے کہ مرکزی حکومت نے جون میں جے پور پولو گراؤنڈ اور اس سے ملحقہ دہلی ریس کلب کی زمین اپنے قبضے میں لے لی تھی۔ اسی زمین پر واقع مسجد کی بجلی اور پانی کی سپلائی کا معاملہ اب ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔