شے-فوکسونڈو جھیل کی سیر کے دوران دو خواتین سمیت چھ بھارتی شہریوں سے رابطہ منقطع؛ شدید برف باری اور دشوار گزار پہاڑی راستوں کے باعث تلاش اور امدادی کارروائیوں میں مشکلات
کٹھمنڈو: نیپال کے ڈولپا ضلع میں واقع شے-فوکسونڈو جھیل کے قریب ٹریکنگ کے دوران چھ بھارتی سیاح لاپتہ ہو گئے ہیں۔ ان میں دو خواتین اور چار مرد شامل ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق، شدید برف باری کے باعث یہ سیاح پہاڑی راستوں میں پھنس گئے ہیں۔ ان کی تلاش کے لیے نیپالی فوج کی ایک ٹیم روانہ کر دی گئی ہے، جبکہ امدادی کارروائیوں میں مدد کے لیے ہیلی کاپٹر کی فراہمی کی درخواست بھی کی گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق، یہ سیاح ڈولپو بدھا رورل میونسپلٹی کے وارڈ نمبر 4 اور 8 سے شے-فوکسونڈو جھیل کی طرف جا رہے تھے۔ انہیں آخری مرتبہ شے-فوکسونڈو رورل میونسپلٹی کے وارڈ نمبر 4 اور 8 کے درمیان واقع نملا پاس اور باگلا پاس کے علاقوں میں دیکھا گیا تھا۔ اس کے بعد سے ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔
مقامی گائیڈز کا کہنا ہے کہ خلیج بنگال میں بننے والے سمندری طوفان ‘ارنب’ کے اثرات کے باعث ہمالیائی علاقے میں شدید برف باری ہوئی ہے۔ اس کے نتیجے میں پہاڑی راستے برف سے ڈھک گئے ہیں اور درّوں سے گزرنا خطرناک ہو گیا ہے۔ مقامی باشندوں نے سیاحوں کو پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ خراب موسم کے باعث پہاڑی راستوں پر سفر کرنا خطرے سے خالی نہیں، لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔ خدشہ ہے کہ واپسی کے دوران وہ برف باری میں پھنس گئے۔
ڈولپا ضلع کی چیف ڈسٹرکٹ آفیسر جونو ہمل نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سیاح دھو سے فوکسونڈو جھیل کی طرف واپس آ رہے تھے، اسی دوران وہ راستے میں پھنس گئے۔ ان کے مطابق، مقامی لوگوں نے انہیں موسم کی خرابی اور پہاڑی راستوں کی خطرناک صورتِ حال سے آگاہ کیا تھا، لیکن انہوں نے واپسی کا سفر جاری رکھا۔
موبائل نیٹ ورک نہ ہونے سے تلاش میں دشواری
شے-فوکسونڈو رورل میونسپلٹی کے چیئرمین دھاوا سمدوک گرونگ نے بتایا کہ وارڈ نمبر 4 اور 8 کے درمیان واقع پہاڑی درّوں میں موبائل فون نیٹ ورک کام نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ لاپتہ سیاحوں سے رابطہ قائم کرنا اور ان کے موجودہ مقام کا پتا لگانا مشکل ہو رہا ہے۔
ڈولپا کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس انل راج گری کے مطابق، تازہ ترین اطلاعات میں چھ بھارتی سیاحوں سے رابطہ منقطع ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ حکام نے ان کی تلاش اور بچاؤ کے لیے متعلقہ اداروں سے ہیلی کاپٹر فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ تاہم، مسلسل برف باری، خراب موسم اور دشوار گزار پہاڑی راستوں کے باعث امدادی کارروائیوں میں رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں۔
لاپتہ سیاحوں کا سراغ لگانے اور انہیں بحفاظت نکالنے کے لیے نیپالی فوج کی ایک ٹیم بھی تعینات کر دی گئی ہے۔
اپر ڈولپا میں 244 سیاح موجود
ضلعی انتظامیہ کے مطابق، اس وقت اپر ڈولپا کے علاقے میں مجموعی طور پر 244 سیاح موجود ہیں۔ ان میں 149 نیپالی شہری، 44 سارک ممالک کے شہری اور 51 دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے سیاح شامل ہیں۔
خراب موسمی حالات کے پیش نظر انتظامیہ نے تمام سیاحوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ خطرناک پہاڑی علاقوں میں جانے سے گریز کریں اور موسم بہتر ہونے تک محفوظ مقامات پر قیام کریں۔
واضح رہے کہ شے-فوکسونڈو جھیل نیپال کے مشہور سیاحتی مقامات میں شمار ہوتی ہے۔ حالیہ برسوں میں یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 2082/83 کے ابتدائی 11 مہینوں میں 4,882 سیاحوں نے اس جھیل کا دورہ کیا تھا۔
فی الحال انتظامیہ کی اولین ترجیح لاپتہ چھ بھارتی سیاحوں کا سراغ لگانا اور انہیں بحفاظت واپس لانا ہے۔